اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 37

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۷ مباحثہ لدھیانہ میرے نزدیک قطعی الثبوت ہیں۔ اگر میں ایسا کہوں تو خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں ۔ ہاں اگر کوئی ایسی حدیث ۳۵ قرآن کریم سے مخالف نہ ہو تو پھر میں اس کی صحت کاملہ کی نسبت قائل ہو جاؤں گا۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ قرآن کریم کو کیوں محک صحت احادیث ٹھہراتے ہو۔ سو اس کا جواب میں بار بار یہی دوں گا کہ قرآن کریم مهیمن اور امام اور میزان اور قول فصل اور ھادی ہے۔ اگر اس کو محک نہ ٹھہراؤں تو اور کس کو ٹھہراؤں؟ کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہئے جو مرتبہ وہ خود اپنے لئے قرار دیتا ہے ؟ دیکھنا چاہئے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا لے کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کیلئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ اور پھر فرماتا ہے۔ وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أَعْمَى کے یعنی جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہو تو اس کیلئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائے گا۔ اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے مخالف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پر واہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہو گئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔ پھر ایک جگہ فرماتا ہے فَاسْتَمْسِكُ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لَذِكْرُ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ) یعنی قرآن کو ہر یک امر میں دستاویز پکڑو۔ تم سب کا اسی میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستاویز پکڑو اور اسی کو مقدم رکھو۔ اب اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔ اور پھر فرماتا ہے وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضُ لَهُ شَيْطَنًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ و یعنی جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیرتا ہے اور نابینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا ۔ اب اگر ہم کسی ایسی حدیث کو قبول کر لیں جو صریح قرآن کی مخالف ہے تو گویا ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہمارا دن رات کا رفیق ہو جائے اور اپنے وساوس میں ہمیں گرفتار کرے اور ہم پر نا بینائی طاری ہو اور ہم حق سے بے نصیب رہ جائیں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ الله نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ " یعنی ذالک الكتاب كتاب متشابه يشبه بعضه بعضا ليس فيه تناقض ولا اختلاف مثنى ال عمران : ۲۱۰۴ طه : ۱۲۵ ۳ الزخرف ۴۴ الزخرف : ۵۴۵ الزخرف: ۶۳۷ الزمر: ۲۴