اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 29

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹ مباحثہ لدھیانہ انسان جس کسی کا قول یا مذہب اپنے ریویو میں بطور نقل کے ذکر کرتا ہے وہ یا اپنے مؤیدات دعوئی اور ۲۷ رائے کی مدد میں لاتا ہے یا اس کی رد کی غرض سے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ آپ اس قول کو اپنے مؤیدات دعوی کے ضمن میں لائے ہیں۔ آپ نے بجز اس کے اسی دعوئی کی تائید کیلئے ایک بخاری کی حدیث بھی لکھی ہے کہ محدث کا الہام دخل شیطانی سے محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ وہاں تو آپ نے کھلے طور ظاہر کر دیا ہے کہ آپ اسی قول کے حامی ہیں گو ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر ضرور حامی ہیں اور میرے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کیونکہ میرا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حدیثیں اگر چہ صحیح بھی ہوں لیکن ان کی صحت کا مرتبہ ظن یا ظن غالب سے زیادہ نہیں ۔ سوان حدیثوں کی حقیقی صحت کا پرکھنے والا قرآن شریف ہے۔ اور قرآن شریف جس قدر اپنے محامد اور اپنے کمالات بیان کرتا ہے ان پر نظر غور ڈالنے سے بھی ۔ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے تئیں اپنے ماسوا کی تصحیح کیلئے ملک ٹھہرایا ہے اور اپنی ہدایتوں کو کامل اور اعلیٰ درجہ کی ہدایتیں بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی شان میں فرماتا ہے۔ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ فَصَّلْتُهُ عَلَى عِلْمٍ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلْمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النَّوْرِ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ، فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَغَا لِقَوْمٍ عَبِدِينَ وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ " تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ رُوحَا مِنْ أَمْرِنَا نُورٌ عَلَى نُوْرِهَا أَنْزَلَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَبٍ مَّكْنُونٍ فَضَّلْنَهُ عَلَى عِلْمٍ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَصْلُ " لَا رَيْبَ فِيهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ " قُلْ نَزَّلَهُ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ٣ هُذَا بَيَانَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَ مَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ بِالْحَقِّ أَنْزَلْتُهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ " مَا كَانَ حَدِيثًا يَفْتَرَى اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کئی قسم کی خصوصیتیں اور حقیقتیں قرآن کریم کی بیان فرمائی ہیں ۔ از انجملہ ایک یہ کہ وہ البيئة: ۲۴ الاعراف: ۳۵۳المائدة: ١٧ ٢ البقرة : ۱۵۲ ۵ البقرة : ۱۲۱ - طه : ۱۲۴ کے حم السجدة : ۴۳ ۸ البقرة : ۲۵۷ بنی اسرائیل : ۱۰ ما الانبياء : ۱۰۷ الى الحاقة : ۱۲۵۲ القمر : ١٣٦ النحل : ۱۴۹۰ الشورى : ۵۳ ۱۵ النور : ٣٦ ١٦ الشورى : ١٨ كل البقرة : ۱٨٦ ۱۸ الواقعة : ۷۸، ۱۹۷۹ الاعراف: ۵۳ ۲۰ الطارق : ١٤ ١ البقرة : ٢٢٣ النحل : ۶۵ ۲۳ النحل : ۱۰۳ ال عمران : ۱۳۹ ۲۵ بنی اسرائيل : ١٠٦ ٢٦ حم السجدة: ۴۵ ۲۷ یوسف : ۱۱۲