اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 24
۲۲ روحانی خزائن جلد ۴ ۲۴ مباحثہ لدھیانہ پھر آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اشاعۃ السنہ میں محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے اور آخر میں میں نے لکھ دیا کہ ہم الہام کو حجت اور دلیل نہیں جانتے“۔ اس کے جواب میں بادب ملتمس ہوں کہ آپ اگر اس قول کے مخالف ہوتے تو کیوں ناحق اس کا ذکر کرتے؟ غایت کار آپ کے کلام میں تناقض ہوگا کیونکہ اول صاف تسلیم کر آئے ہیں کہ الہام ملہم کے لئے حجت شرعی کے قائم مقام ہوتا ہے علاوہ اس کے آپ تو صاف طور پر مان چکے ہیں بلکہ بحوالہ حدیث بخاری به تصریح بیان کر چکے ہیں کہ الہام محدث کا شیطانی دخل سے منزہ کیا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے میں اس بات کیلئے آپ کو مجبور نہیں کرتا کہ آپ الہام کو حجت سمجھ لیں مگر یہ تو آپ اپنے ریویو میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ مہم کیلئے وہ الہام حجت ہو جاتا ہے۔ سو میرا دعوئی اسی قدر سے ثابت ہے۔ میں بھی آپ کو مجبور کرنا نہیں چاہتا۔ پر چه نمبر ۴ ! مولوی صاحب! غلام احمد بقلم خود ہے: جواب آپ نے بایں ہمہ تطویل میرے سوال کا جواب پھر بھی صاف نہ دیا جا اور آپ کے اس کلام میں وہی اضطراب و اختلاف پایا جاتا ہے جو پہلے کلام میں موجود ہے آپ شرط صحت کو جو آپ کے خیال میں ہے پیش نظر رکھ کر صاف صاف الفاظ میں دو حرفی جوار دیں کہ احادیث و کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم بلا تفصیل صحیح و واجب العمل ہیں یا بلا تفصیل غیر صحیح و نا قابل عمل یا اس میں تفصیل ہے بعض احادیث صحیح ہیں اور بعض غیر حیح و موضوع ۔ اس کے ساتھ آپ یہ بھی یہ بھی بتا دیں کہ آ دیں کہ آپ نے اپنی تصہ ، اپنی تصانیف میں کسی حدیث صحیح بخاری و سیح صحیح ۔ و حیح مسلم کو غیر صحیح و موضوع کہا ہے یا نہیں ؟ (۲) آپ نے جو میرے اس سوال کا کہ سلف میں آپ کا کون امام ہے جواب دیا ہے وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے ابن صیاد کی نسبت وہ سوال نہیں کیا تھا بلکہ آپ کے اس اعتقاد کی نسبت سوال کیا تھا کہ صحت احادیث کا معیار قرآن ہے اور جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ موضوع ہے اب بھی آپ فرماویں۔ نوٹ:۔ مولوی صاحب ! آپ کی یہ تان کہیں ٹوٹے گی بھی ! ذرا بغض وعناد کے بخار سے دماغ کو خالی فرماویں۔ آپ کو صاف معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو صاف اور کافی جواب دیا گیا ہے۔ ایڈیٹر