اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 473 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 473

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۷۳ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات وید وغیرہ میں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہو گئی ہیں یا باقی رہ گئی ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صدہا کتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں جن پر ہمیں اطلاع ہوئی ہے اُن سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں اور اس کامل استقراء سے جو تیس برس کے عرصہ سے نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے، نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قومی کی تربیت کے لئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں ہے جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجربہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعوی بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میں نے بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے آئے ہیں ۔ پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے یہ بھی ایسا نشان ہے جو قیامت تک اُمت محمد یہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود اور متحقق ا نفق الوجود ہے۔ مسلمانوں میں سے ایسے ۔ لوگ اب بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جل شانہ اپنی تائیدات خاصہ سے موید ۲۳) فرماکر الہامات صحیحہ وصادقه و مبشرات و مکاشفات غیبیہ سے سرفراز فرماتا ہے۔ اب اے حق کے طالبو اور سچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو! انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس