اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 4

روحانی خزائن جلد ۴ لد مباحثہ لدھیانہ آلہ ترقی و اصلاح کو ہر قسم کے مفسدات شرور اور تمدن و معاشرت کی خرابیوں کا منبع کہا گیا۔ بد قسمتی سے بد عمل بنی آدم نے جہاں مباحثہ و مناظرہ کی مجلس قائم کی بس طرفۃ العین میں اسے تاریک وقتوں کی کشتی پنجہ زنی اور نبرد آزمائی کے خوفناک دنگل کی صورت سے بدل دیا۔ تو اریخ عامہ کو چھوڑ کر مقدس تاریخ (كتب السير ) کو اٹھا کر دیکھو۔ صحابہ میں بھی امور پیش آمدہ اور مسائل مہمہ کے بارہ میں جن میں کسی قسم کا اشکال و ابہام ہوتا اور کتاب وسنت کی نورانی چمک اس کی تاریکی کو اٹھا دینے کی متکفل نہ ہوتی ۔ مباحثے ہوتے ۔ بڑے بڑے اہل علم فقہا جمع ہوتے ۔ مگر وہ اس سچے نور سے منور تھے اور راہ حق میں نفسانی جذبات کو نیست و نابود کر چکے تھے۔ بڑی آشتی ولطف سے امر متنازعہ فیہ کی الجھن کو سلجھا لیتے والله در من قال جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا خلاف آشتی سے خوش آئند تر تھا حضرت مقدسہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) بڑی مناظرہ کرنے والی تھیں۔ اکثر واقعات میں صحابہ نے ان کی خدمت کی طرف رجوع کیا اور مباحثات کے بعد حضرت صدیقہ کے مذہب کو اختیار کیا۔ الغرض مباحثہ کوئی بدعت اور دراصل فساد انگیز شے نہ تھی ۔ مگر مغلوب الغضب ۔ بہائم سیرت متنازعین کی بے اندامیوں نے اسے بدعت وطغیان کی حد سے بھی کہیں پرے کر دیا ہے۔ کچھ مدت سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ( رب جلیل کے القاء و اعلام سے ) یہ دعوی کیا ہے (۱) کہ حضرت مسیح اسرائیلی صاحب انجیل اپنے دوسرے بھائیوں ( انبیا علیہم السلام ) کی طرح فوت ہو چکے ہیں۔ قرآن کریم ان کی وفات کی قطعی اور جز می شہادت دے چکا ہے ۔ اور (۲) دوبارہ دنیا میں آنے والے ابن مریم سے مراد مثیل مسیح کے وجود سے ہے نہ صیح اصیل سے اور (۳) میں مسیح موعود ہوں جو بشارات الہیہ کی بنا پر دنیا میں اصلاح خلق کے لئے آیا ہوں ۔ حضرت مرزا صاحب نے اسی سنت اللہ کے موافق جو انبیاء اور محدثین کی سیرت سے عیاں ہے ان دعاوی خصوصاً و مہتماً ان دو دعووں کی اجابت کی طرف کا فتہ الناس کو بآواز بلند وندائے عام بلایا۔ اہل پنجاب سے ( بحکم آیہ شریفہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِيِّ الآية بماله کے شیخوں میں کے ایک بزرگ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب اس دعوت کی تردید پر کھڑے ہوئے۔ لوگوں کے اعتقاد کے موافق ان جدید دعووں نے عقائد قدیمہ کی دنیا میں فوق العادت رستخیز پیدا الحج : ۵۳