اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 417
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۱۷ نشان آسمانی اور مشرکین نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مردے ہمارے لئے زندہ کر دیوے یا آسمان پر ہمارے رو برو چڑھ جاوے اور کتاب لاوے جس کو ہم ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں وغیرہ وغیرہ مگر خدائے تعالیٰ نے محکوموں کی طرح ان کی پیروی نہیں کی اور وہی نشان دکھلائے جو اس کی مرضی تھی یہاں تک کہ بعض دفعہ نشان طلب کرنے والوں کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تمہارے لئے قرآن کا نشان کافی نہیں ۔ اور یہ جواب نہایت پر حکمت تھا کیونکہ ہر ایک عقل مند سمجھتا ہے کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ کہ ان میں اور سحر و مکر و دست بازی وغیرہ میں تفرقہ و تمیز کرنا نہایت مشکل بلکہ محال ہوتا ہے اور دوسرے وہ نشان ہیں جو ان مغشوش کاموں سے بکلی تمییز رکھتے ہیں اور کوئی شائبہ یا شبه سحر یا مکر یا دست بازی اور حیلہ گیری کا ان میں نہیں پایا جاتا ۔ سواسی دوسری قسم میں سے قرآن کریم کا معجزہ ہے جو بکلی روشن اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے لعل تاباں کی طرح چمک رہا ہے۔ لکڑی کا سانپ بنانا کوئی ممیز نشان نہیں ہے ۔ حضرت موسیٰ نے بھی سانپ بنایا اور ساحروں نے بھی اور اب بھی بنائے جاتے ہیں مگر اب تک معلوم نہیں ہوا کہ سحر کے سانپ اور معجزہ کے سانپ میں مابہ الامتیاز کیا ہے ۔ اسی طرح سلب امراض میں عمل الترب میں مشق کرنے والے خواہ وہ عیسائی ہیں یا ہند و یا یہودی یا مسلمان یا دہر یہ اکثر کمال رکھتے ہیں اور البتہ بعض اوقات جذام وغیرہ امراض مزمنہ کو بمشیت الہی اسی عمل کی تاثیر سے دور کر دیتے ہیں سوصرف شفاء امراض پر حصر رکھنا ایک دھوکہ ہے جب تک اس کے ساتھ پیشگوئی شامل نہ ہو اسی طرح آج کل بعض تماشا کرنے والے آگ میں بھی کو دتے ہیں اور اس کے اثر سے بچ جاتے ہیں سو کیا اس قسم کے تماشوں سے کوئی حقیقت ثابت ہو سکتی ہے۔ من سلوٹی کا تماشا شاید آپ نے کبھی دیکھا نہیں ایک ایک پیسہ لے کر کشمش وغیرہ برسا دیتے ہیں اگر آپ آج کل کے یورپ کے تماشائیوں کو دیکھیں جو ایک مخفی فریب کی راہ سے ﴿۳۱﴾ سرکاٹ کر بھی پیوند کر دیتے ہیں تو شاید آپ ان کے دست بیع ہو جائیں ۔ مجھے یاد ہے کہ جالندھر کے مقام میں ایک شعبدہ باز تھا مہتاب علی نام نے جو آخر تو بہ کر کے