اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 325
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۵ الحق مباحثہ دہلی آگے رہا یہ شبہ کہ جب ہر ایک شے میں یہ وصف مشترک ہے تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے کیا فضیلت ہوئی تو اس کا جواب مکر رسہ کر ر گذر چکا یاد کرو کی مشکک کو ۔ اور پھر جبکہ بقول آپ کے سباق و سیاق کلام مرزا صاحب کا وحدۃ الوجود کے مسئلہ کورڈ کرتا ہے تو اب نزاع ہی کیا رہا۔ اور جبکہ وحدۃ الوجود کا مسئلہ میری اور آپ کی سمجھ سے باہر ہے تو پھر میں اس کا کیونکر قائل ہو سکتا ا ہوں ہوں ۔ ۔ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔ آپ مجھ کو بلا وجہ ں ۔ الزام دیتے ہیں۔ اعتراض ششم آپ کا یہ ہے کہ ضمیر صورتہ میں راجع طرف قریب کے ہونی چاہئے بعید کی طرف کیوں پھیرتے ہو۔ الجواب۔ جو آپ نے معنے حدیث کے سمجھے ہیں وہ بھی صحیح ہیں۔ اور جو احتمال اس بیچید ان نے لکھا تھا وہ بھی درست ہے کیونکہ اس کو ترجیح اس وجہ سے ہے کہ مرجع ضمیر کا اُس میں عمدہ ہوتا ہے۔ بخلاف آپ کے احتمال کے کہ اُس میں مرجع ضمیر کا فضلہ ہوتا ہے متعلقات فعل میں ضمیر کا رجوع عمدہ کی طرف مناسب ہے۔ نہ فضلہ کی طرف این ہم فیصلہ شد اعتراض ہفتم آپ کا یہ ہے۔ ہر چہ بینی بدانکہ مظہر اوست ۔ پھر اس وصف مظہریت سے حضرت صلعم کو کون سی فضیلت حاصل ہوئی ۔ الجواب۔ یہ وصف بھی بدرجہ اکمل جس سے فوق متصور نہیں ۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم 191 ہی میں پایا جاتا ہے دوسرے میں نہیں پایا جاتا ۔ وہی کلی مشکک کا حال اور علاقہ ابنیت جو بطور استعارہ حضرت مسیح یا مثیل مسیح وغیرہ کو حاصل ہے وہ بدر جہا کم ہے اس وصف وحدت تامہ سے جس کی تفصیل اوپر ہو چکی الحاصل واسطے سمجھنے کے آپ ان مراتب ثلاثہ قرب الہیہ کو بطور استعارہ و تمثیل کے یوں سمجھ لیجئے کہ ایک طرح کے مقربین کو ایسا البقرة : ۲۸۷