اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxii of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxii

<mark>من</mark>ظور فرما لیا اور لکھوایا کہ حفظ ا<mark>من</mark> کے لئے آپ سرکاری <mark>ان</mark>تظام کر لیں جس میں کوئی یوروپین افسر ہو اور <mark>ان</mark>تظام کرکے ہمیں لکھ بھیجیں۔ہم تاریخ مقررہ پر آ جائیں گے۔تحریری مباحثہ کا جھگڑا حاضرین کی کثرتِ رائے پر فیصلہ کیا جائے گا۔اگر آپ تشریف لاتے تو ہم آپ کے اخراجات اور حفظِ ا<mark>من</mark> کے لئے سرکاری <mark>ان</mark>تظام کے بھی ذمہ وارہوتے۔مولوی رشید احمد صاحب نے جواباً لکھا کہ <mark>ان</mark>تظام کا میں ذمہ وار نہیں ہو سکتا۔اِس پر اُن کو دو تین خطوط اور لکھے گئے لیکن <mark>ان</mark>ہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔دہلی میں شیخ ال<mark>کل</mark> کو مباحثہ کی دعوت اِس کے بعد حضورؑ لدھی<mark>ان</mark>ہ سے واپس قادی<mark>ان</mark> تشریف لے گئے۔جب پنجاب کے علماء ایسے مباحثہ کے لئے تیار نہ ہوئے جس سے عامۃ الناس حق و باطل میں امتیاز کر سکیں تو حضورؑ نے دہلی ج<mark>ان</mark>ے کا ارادہ فرمایا کیونکہ دہلی اُس وقت علمِ دین کے لحاظ سے ایک علمی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا اور وہاں مولوی سیّد نذیر حسین صاحب جو علماء اہل<mark>حدیث</mark> کے استاد اور شیخ ال<mark>کل</mark> کہلاتے تھے اور شمس العلماء مولوی عبدالحق صاحب مؤلف تفسیر حقّ<mark>ان</mark>ی وغیرہ مشہور علماء رہتے تھے۔آپ نے خیال فرمایا کہ شائد وہاں اتمام حجّت اور عام لوگوں کو حق معلوم کرنے کا موقع مل جائے۔اِس لئے آپ قادی<mark>ان</mark> سے لدھی<mark>ان</mark>ہ تشریف لے گئے جہاں ایک ہفتہ قیام فرما کر اپنے مخلص اصحاب سمیت عازمِ دہلی ہوئے۔او ر کوٹھی نواب لوہارو بازار بلیماراں میں قیام فرما ہوئے۔اور ۲؍اکتوبر۱۸۹۱ء کو آپ نے ایک اشتہار بعنو<mark>ان</mark> ذیل شائع کیا:۔’’ایک عاجز مسافر کا اشتہار قابلِ توجہ جمیع مسلم<mark>ان</mark><mark>ان</mark> <mark>ان</mark>صاف شعار و حضرات علماء نامدار‘‘ اِس اشتہار میں حضور علیہ السلام نے اپنے عقائد تحریر فرما کر مسئلہ حیات و وفات مسیحؑ بن مریم اور اپنے دعوے کا ذکر فرمایا اور لکھا کہ’’ اگر حضرت سید مولوی محمد نذیر حسین صاحب یا جناب مولوی ابو محمد عبدالحق صاحب مسئلہ وفات مسیحؑ میں مجھے مخطی خیال کرتے ہیں یا ملحد اور مؤول تصور فرماتے ہیں اور میرے قول کو خلاف قال اﷲ قال الرسول گم<mark>ان</mark> کرتے ہیں تو حضرات موصوفہ پر فرض ہے کہ عامۂ خلائق کو فتنہ سے بچ<mark>ان</mark>ے کے لئے اِس مسئلہ میں اِسی شہر دہلی میں میرے ساتھ بحث کر لیں۔بحث میں صرف تین شرطیں ہو ں گی۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۲۱۷ جدید ایڈیشن)