اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 262
روحانی خزائن جلد ۲۶۲ الحق مباحثہ دہلی ۱۳۲ ومعنى الاستلزام ظاهر وإن اريد به التعميم كما هو الظاهر حمل الاستلزام على المناسبة المصححة للانتقال لا على امتناع الانفكاک اور اصولیین نے تعریف دلیل کی لکھی ہے هو ما يمكن التوصل لصحيح النظر في احواله الى مطلوب خبری کالعالم مثلا فانه من تامل في احواله لصحيح النظر بان يقول انه متغير وكل متغير حادث وصل الى مطلوب خبرى وهو قولنا العالم حادث فعند الاصوليين العالم دليل وعند الحكماء مجموع العالم متغیر و کل متغیر حادث۔ واضح خاطر ناظرین ہو کہ مولوی صاحب نے اول دلیل کا نام تو قطعية الدلالت في نفسه رکھا ہے اور بقیہ اربعہ کا نام ظنی رکھ کر قطعية الدلالت لغیرہ فرمایا ہے اور غیر سے مراد وہی دلیل اوّل ہے۔ پس یہ دلائل اربعہ فقیہ دلیل اوّل کے انضمام سے قطعية الدلالت کیونکر ہوگئیں ۔ اگر دلیل اول ان دلائل کے واسطے بمنزلہ مقدمہ دلیل کے گردانی گئی ہے کہ الـمـقـدمـة مــا يتوقف عليه صحة الدليل اعم من ان يكون جزءا من الدليل اولا تو اس صورت میں دلیل اول دلیل نہ رہی بلکہ مقدمہ دلائل اربعہ ہو گئی۔ ہاں اسکا ترتیب کرنا جناب پر باقی رہا اور خواہ جناب اس کو مرتب فرماویں یا نہ فرماویں ہم تو اُس پر نقض تفصیلی کر چکے۔ اور اگر وہ خود فی نفسہ ایک دلیل جدا گانہ ہے تو یہ دلائل نہ رہے بلکہ حسب اصطلاح نظار کے امارت ہو گئے ۔ لانـه يـقــال لــمــلـزوم الظن امارة لا دلیل اور یہ اصطلاح جناب کی حسب اصطلاح اصول فقہ کے بھی درست نہیں معلوم ہوتی ۔ اگر درست ہوتی تو مثلاً خفی کو جو ظاہر کے مقابل ہے ظاهر لغیرہ اور مشکل کو جونص کے مقابل ہے نص لغیرہ اور مجمل کو جو مفسر کے مقابل ہے مفسر لغیرہ اور متشابہ کو جو محکم کے مقابل ہے محکم لغیرہ بھی کہہ دیا کرتے اور تمام اقسام نظم قرآن مجید کے جو اصولیین نے لکھے ہیں انکار جوع کسی جگہ پر ایک قسم کی طرف ہو جایا کرتا ۔ اگر اس قسم کا مسئلہ اصول فقہ میں مندرج ہو تو از راہ عنایت ذرہ وضاحت سے بیان فرما دیا جاوے تا کہ ہیچمد ان کی سمجھ میں آجاوے اور جو حُسن کہ جناب نے اپنے معنے کے بموجب کلام فی الکہولت میں ارشاد فرمایا ہے وہ حسن تو سب کچھ سہی مگر اُس حُسن کا ثبوت ایسے مقام پر کتاب وسنت صحیحہ سے بھی تو ہونا ضروری ہے۔ ورنہ ایک خیالی حُسن ہو گا جیسے شعراء کو اپنے خیالات اور مضامین شاعری کا حُسن معلوم ہوا کرتا ہے اور اس کلام فی الکہولت کی نسبت