اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 252

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۵۲ الحق مباحثہ دہلی ۱۲۲﴾ اور جمع ہوتے جاتے ہیں اور یہ جمع قیامت تک رہے گا۔ قیامت اُسکی انتہا ہے کیونکہ الی انتہا کے واسطے آتا ہے آیت فَلَنَسْتَلَنَّ الَّذِينَ کے میں صیغہ فلنسئلن مضارع ہو سکتا ہے کیونکہ لام تاکید معہ نون تاکید کے اُس میں موجود ہے اور دوام تجددی بھی مراد ہو سکتا ہے۔ شروع سوال وقت موت سے ہی برزخ میں بھی ہوتا ہے اور حشر و نشر اجساد میں بھی رہے گا تا دخول جنت یا نار۔ شاہ عبدالقادر صاحب ترجمہ اسکا زمانہ حال کے ساتھ فرماتے ہیں سو ہم کو پوچھنا ہے اُن سے جن پاس رسول بھیجے تھے اور ہم کو پوچھنا ہے رسولوں سے۔ آیت لَا قَطِعَنَ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ میں حال و استقبال دونوں مراد ہو سکتے ہیں ۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ بلفظ مضارع کیا ہے۔ البتہ ببرم دستہائے شمارا و پاہائے شمارا - آیت وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ سے میں بھی دونوں زمانے مراد ہو سکتے ہیں اور کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ کیونکہ وقت نزول آیہ سے یعنی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے یہود پر عذاب نازل ہونا شروع ہو گیا اور یہ عذاب اُن پر قیامت تک نازل رہے گا۔ اسی واسطے ترجمہ اس آیہ کا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے بلفظ مضارع کیا ہے۔ و یادگن چوں آگاہ گردانید پروردگار تو که البته بفرستند برایشان تا روز قیامت آیت وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا " میں حال و استقبال دونوں مراد ہیں کیونکہ اس کے کیا معنے کہ کفار پیغمبروں کو اذیت تو دے چکے یا دیتے ہیں اور ان پیغمبروں نے ابھی تک صبر نہیں کیا کسی آئندہ زمانہ میں صبر کریں گے اور زمانہ حال میں بے صبر ہیں إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ ، آیت وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَا الآية میں بھی حال و استقبال دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ کوئی محذور لازم نہیں آتا ۔ خصوصاً جبکہ لحاظ کی جاوے تعریف زمانہ حال کی جو او پرگزرچکی کہ زمانہ حال ایک امر عرفی ہے اور اُسکی مقدار بلحاظ افعال کے مختلف ہے اور وہ مفوض الی العرف ہے۔ آیت وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ میں تسلیم کیا که صرف زمانہ استقبال مراد ہے مگر ہم کو یہ کچھ مضر نہیں ۔ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ایسے صیغ میں زمانہ حال ضرور بالضرور مراد ہی ہوتا ہے اور آیت مذکورہ میں ایک صارف بھی موجود ہے۔ ۳-۲-۱ الاعراف : ۷ ۱۲۵ ۱۶۸ ۴ ابراهیم : ۱۳ ۵ ص: ۲۶ ابراهيم : ۱۴ کے النحل : ۹۳