اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 189
۵۹ روحانی خزائن جلد ۴ ۱۸۹ الحق مباحثہ دہلی اہل کتاب کو جو آنحضرت صلعم کے زمانہ میں موجود تھے۔ خواہ یہ کلمہ انہیں سے خاص ہو یا خاص نہ ہو لیکن حقیقت کلام کا مصداق ٹھہرانے کیلئے حال سب زمانوں سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور کوئی وجہ اس بات کی نہیں پائی جاتی کہ کیوں وہی اہل کتاب خاص کئے جائیں جو حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے پھر صحیح تاویل وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں یعنی ضمیر بہ کی عیسی کی طرف نہیں پھرتی بلکہ کتابی کی طرف پھرتی ہے اور اسی کے قراءت ابی بن کعب مؤید ہے جس کو ابن المنذر نے ابی ہاشم سے لیا ہے اور نیز غروہ سے بھی ۔ اور وہ قراءت یہ ہے ۔ وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موتهم - یعنی اہل کتاب اپنی موت سے پہلے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی پر ایمان لاویں گے۔ اسی کے قریب قریب ابن کثیر اور تفسیر کبیر اور فتح البیان و معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر میں لکھا ہے۔ اب دیکھئے کہ حضرت عکرمہ اور حضرت ابن عباس اور علی بن طلحہ رضی اللہ عنہم یہی تأويل ليؤمنن به کی کرتے ہیں کہ پہلی ضمیر محمد مصطفی صلعم اور عیسیٰ کی طرف پھرتی ہے اور دوسری ضمير قبل مو ته اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور قراءت قبل موتهم کس قدر وثوق سے ثابت ہوتی ہے پھر باوجود یکہ یہ تاویل صحابہ کرام کی طرف سے ہے اور بلا شبہ قراءت شاذہ حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے مگر آپ اس کو نظر انداز کر کے اور نحوی قواعد کو اپنے زعم میں اس کے مخالف سمجھ کر تمام بزرگ اور اکابر قوم اور صحابہ کرام کی صریح ہجو اور توہین کر رہے ہیں گویا آپ کے نحوی قواعد کی صحابہ کو بھی خبر نہیں تھی اور ابن عباس جیسا صحابی جس کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فہم قرآن کی دعا بھی ہے وہ بھی آپ کے ان عجیب معنوں سے بے خبر رہا۔ آپ پر قراءت قبل موتهم كا بھی وثوق کھل گیا ہے اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ ابن عباس اور علی بن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معنوں کے سمجھنے میں خطا پر تھے اور قراءت اُبی بن کعب بھی یعنی قبل موتهم كامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعوئی قطعية الدلالت ہونے آیت ليؤمنن بہ پر اس کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ کیا وہ دعوے جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں با تفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تک قطعی الدلالت ہے۔ يا أخى اتق الله۔ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا لے اور جب ان روایتوں کے ساتھ وہ روایتیں بھی ملا دیں جن میں انی متوفیک کے معنے ممیتک لکھے ہیں جیسے ابن عباس کی روایت اور وہب اور محمد بن اسحاق کی روایت کے کوئی ان میں سے عام طور پر حضرت مسیح کی موت کا قائل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ تین گھنٹہ تک مر گئے تھے بنی اسرائیل : ۳۷