اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 172
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۷۲ الحق مباحثہ دہلی ۴۲ اور خلاف نفس الامر کا بھی موہم نہ ہوتا ۔ یعنی بجائے لیؤمنن کے لفظ يؤمن اختیار کیا جاتا۔ یعنی یوں کہا جاتا وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا يؤمن بِهِ قَبْلَ مَوْتِہ یہ عبارت ایسی عمدہ ہے کہ اس میں وعید و تحریض جو مطلوب ہے وہ بھی حاصل ہے اور موہم خلاف نفس الامر بھی نہیں ہے اور اختصار بھی حاصل ہے یعنی لام ونون نہیں ہے پس قرآن مجید کی بلاغت کی جو حد اعجاز کو پہنچ گئی ہے خلاف ہے کہ ایسی عمدہ عبارت چھوڑ کر بجائے اس کے لیومنن اختیار کیا جاوے کہ جس میں ایہام خلاف نفس الامر ہے اور اطناب بلا فائدہ فائدہ اور اور بہ یہ سب محذور خالص معنے استقبال ستقبال پر پر حمہ حمل کرنے سے پیدا ہوتا ا ہے۔ ہے۔ محصل کلام اس مقام پر یہ ہے کہ معنے دوم آیت کے بہر تقدیر باطل ہیں اگر خالص استقبال پر محمول کیجئے تو کلام حق تعالیٰ جو بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچ چکا ہے بلاغت سے گرا جاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے قاعدہ مجمع علیہا نحاۃ کے۔ قوله ۔ بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے اس واسطے کہ دوسری قراءت میں یوں آیا ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے ۔ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمْ ـ اقول ۔ اس میں کلام ہے بچند وجوہ اول یہ کہ اس قراءت کی بناء پر بھی معنی دوم صحیح نہیں ہوتے ہیں کیونکہ لیؤ مــــن کو یا تو خالص استقبال پر محمول کیا جائے گا تو کلام حق تعالیٰ جو بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچ گیا ہے۔ بلاغت سے نازل ہوا جاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے قاعدہ مجمع علیہا نحاۃ کے۔ دوم یہ کہ یہ قراءت ہمارے معنے کے مخالف نہیں ہے کیونکہ اس قراءت پر یہ معنی ہیں کہ ہر اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں مسیح پر ایمان لاوے گا اور یہ معنے معنے اول کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں اس طرح پر کہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول حضرت عیسی علیہ السلام مراد لیا جاوے۔ سوم یہ کہ یہ قراءت غیر متواترہ ہے اور قراءت غیر متواترہ عموماً قابل احتجاج نہیں ہے بلکہ جب بسند صحیح متصل منقول ہو اور یہاں سند متصل صحیح اسکی مرزا صاحب نے تحریر نہیں فرمائی۔ مرزا صاحب پر واجب ہے کہ اسکی سند بیان فرماویں اور اس کے سب رجال کی توثیق کریں - ودونه خرط القتاد - چهارم یہ کہ مرزا صاحب نے قبل موتہ کی ضمیر توضیح المرام اور ازالہ الاوہام میں جو الہامی ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے اور یہ قراءت اس خیال کو بکلی باطل ٹھہرا رہی ہے۔ مرزا صاحب یہ تو خیال فرماویں کہ وہ معنے کہ جس کی تصحیح و تقویت کے وہ آپ درپے ہیں اور یہ محض بغرض توڑ نے دعوئی اس خاکسار کے ہے وہ خود نفس الامر میں ان کے نزدیک غیر صحیح ہیں کیونکہ اس تقدیر پر استدلال ان کا موت مسیح پر آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ سے مطلق غیر صحیح ٹھہرتا ہے پس کیا یہی مقتضائے دیانت و انصاف ہے کہ جس چیز کو وہ خود نفس الامر