اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 169

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۶۹ الحق مباحثہ دہلی اس جگہ الناس سے مراد وہی صدوقی فرقہ ہے جو اس زمانہ میں بکثرت موجود تھا چونکہ توریت میں ﴿۳۹﴾ قیامت کا ذکر بظاہر کسی جگہ معلوم نہیں ہوتا اس لئے یہ فرقہ مردوں کے جی اٹھنے سے بکلی منکر ہو گیا تھا۔ اب تک بائکیل کے بعض صحیفوں میں موجود ہے کہ مسیح ا اپنی ولادت کے رو سے بطور علم الساعة کے ان کیلئے آیا تھا۔ اب دیکھئے اس آیت کو نزول مسیح سے تعلق کیا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ مفسرین نے کس قدر جدا جدا طور پر اس کے معنے لکھے ہیں ایک جماعت نے قرآن کریم کی طرف ضمیر ان کی پھیر دی ہے کیونکہ قرآن کریم سے روحانی طور پر مردے زندہ ہوتے ہیں اور اگر خواہ نخواہ تحکم کے طور پر اس جگہ نزول مسیح مراد لیا جائے اور وہی نزول ان لوگوں کیلئے جو آنحضرت صلعم کے عہد میں تھے نشان قیامت ٹھہرایا جائے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا اور جن کو یہ خطاب کیا گیا کہ مسیح آخری زمانہ میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہرے گا۔ اب تم با وجود اتنے بڑے نشان کے قیامت سے کیوں انکاری ہوئے ۔ وہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ دلیل تو ابھی موجود نہیں پھر یہ کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان لے آؤ شک مت کرو۔ ہم نے دلیل قیامت کے آنے کی بیان کر دی۔ دلیل پنجم آپ نے بیان فرمائی ہے کہ حدیث بخاری اور مسلم میں مسیح کے نزول کے بارے میں لکھا ہے اور ابو ہریرہ نے اس تقریب پر فرمایا ہے فاقرء وا ان شئتم وان من اهل الكتب الخ۔ حضرت یہ کچھ دلیل نہیں نزول مسیح موعود سے کس کو انکار ہے اور فہم ابو ہریرہ حجت کے لائق نہیں اور ابوہریرہ نے فاقرء وا ان شئتم میں شک کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ وہی صحابی ہیں جو حديث دخول في النار كوسن کر اس دھوکہ میں پڑے رہے جو ہم میں سے سب سے آخر مرنے والا دوزخ میں پڑے گا۔ پیش گوئی کو اجتہادی طور پر سمجھنے میں انبیاء نے بھی غلطی کھائی فذهب وهلی کی حدیث آپ کو یاد ہو گی پھر ابو ہریرہ نے اگر غلطی سے پیشگوئی کے الٹے معنے سمجھ لئے تو کیا حجت ہو سکتی ہے۔ پھر آپ ابن کثیر سے یہ نقل کرتے ہیں کہ حسن سے روایت ہے کہ ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم یہ حدیث مرسل ہے پھر کیونکر قطعية الدلالت ہوگی ماسوا اس کے یہ بخاری کی حدیث صحیح مرفوع متصل سے جو حضرت عیسی کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور نیز قرآن کی تعلیم سے مخالف ہے۔ پھر کیونکر سند کے لائق ہے۔ بعد اس کے آپ نے میرے دلائل وفات مسیح پر جرح کیا ہے۔ یہ جرح سراسر آپ کی عدم توجہ پر دلالت کرتی ہے میں اس وقت ایسے دلائل پیش کرنا نہیں چاہتا۔ آپ کے دلائل حیات مسیح کا فیصلہ کر کے پھر پیش کروں گا ۔ والحمد لله اولا واخرًا وظاهرا وباطنا كل شيء فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام۔