اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 155

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۵۵ الحق مباحثہ دہلی کا مصدر ہوا ہے کیونکہ لیؤمنن میں لام مکسورہ لام الامر سمجھا ہے حالانکہ قرآن خواں اطفال بھی جانتے ۲۵ ہیں کہ قرآن مجید میں لام مفتوحہ لام تاکید ہے اور اگر یہ معنی ہیں کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے تسلیم کر لیتا ہے یعنی یہ جملہ خبر یہ ہے تو اس وقت ليؤمنن خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا ہے اس لئے یہ معنے غلط ہوئے اور وہ معنے اس آیت کے جو خاکسار نے اول بیان کئے سلف میں سے ایک جماعت کثیر اسی طرف گئی ہے ان میں سے ہیں ابو ہریرہ اور ابن عباس اور ابو مالک اور حسن بصری وقتاده و عبد الرحمان بن زید بن اسلم تفسیر ابن کثیر میں ہے حدثنا ابن بشار حدثنا عبد الرحمن عن سفيان عن ابى حسين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى بن مريم وقال العوفي عن ابن عباس مثل ذلك قال ابومالک فی قوله الا ليؤمنن به قبل موته قال ذلک عند نزول عيسى بن مريم عليه السلام لا يبقى احد من اهل الكتاب الا أمن به وقال الضحاك عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الاليومنن به قبل موته یعنی الیهود خاصة وقال الحسن البصرى يعنى النجاشی و اصحابه رواهما ابن ابي حاتم وقال ابن جریر حدثني يعقوب حدثنا ابن علية حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى وانه لحى الآن عند الله و لكن اذا نزل آمنوا به اجـمـعـون و قال ابن ابی حاتم حدثنا ابي حدثنا علی بن عثمان اللاحقى حدثنا جريرية بن بشير قال سمعت رجلا قال للحسن یا ابا سعید قول الله عز وجل وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى ان الله رفع اليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيمة مقاماً يومن به البرو الفاجر و كذا قال قتادة وعبد الرحمن بن زيد بن اسلم وغير واحد وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع انشاء الله و به الثقة وعليه التكلان انتهی ۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس طرف جانا حدیث صحیحین سے ظاہر ہے مخفی نہ رہے کہ جناب مرزا صاحب نے اس معنی پر جس کو ہم نے صحیح اور حق کہا ہے۔ ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۳۶۸۔ اور صفحہ ۳۶۹ میں چار اعتراض کئے ہیں ان سب کا جواب مسکت بفضلہ تعالیٰ ہمارے پاس موجود ہے ۔ اعتراض اول آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا در تعمیم کا دے رہی ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانے سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ فقط جواب اس کا بدو وجہ ہے اول یہ کہ آیت میں نون تاکید ثقیلہ موجود ہے جو آیت کو خاص زمانہ