اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 107

۱۰۵ روحانی خزائن جلد ۴ ایسی ۱۰۷ شتاب کاری سے احتیاط رکھیں پشیمان شوازاں عجلت که کردی ه مباحثہ لدھیانہ قوله - امام شعرانی نے منهج المبین میں لکھا ہے اجتمعت الامة على ان السنة قاضية على كتاب الله۔ اقول ۔ اجماع کا حال آپ معلوم کر چکے ہیں کہ امام مالک نے خبر واحد پر قیاس کو مقدم رکھا ہے۔ چہ جائیکہ آیت اللہ اس پر مقدم ہو۔ اور حنفیہ کے نزدیک احادیث اگر قرآن کے مخالف ہوں تو سب متروک ہیں اور امام مالک کے نزدیک حدیث متواتر بھی کتاب اللہ کی مخالفت کی حالت میں پیچ ہے۔ پھر جبکہ یہ ائمہ جنکے کروڑ ہا لوگ مقتدی اور پیرو ہیں یہ فیصلہ دیتے ہیں تو اجماع کہاں ہے؟ قوله ۔ جو حدیث آپ نے تفسیر حسینی سے نقل کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ۔ اقول - حضرت وہ تو دراصل بقول صاحب تلویح بخاری کی حدیث ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی تلویح کی عبارت نقل کر چکے ہیں پھر کیا بخاری بھی موضوعات سے پر ہے؟ اور اگر کہو کہ وہ آیت اللہ مَا الكُمُ الرَّسُولُ سے مخالف ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہرگز مخالف نہیں ما اتكم الرسول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں ۔ اول یہ تو دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی حدیث فی الواقع ما اتاکم میں داخل ہے یا نہیں ۔ ما اتاکم میں تو وہ داخل ہوگا جسکو ہم شناخت کر لیں کہ در حقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث کا نام سننے سے مـا اتـاكـم میں اس کو داخل کر دیں؟ اور یہ حدیث تو بخاری میں بقول تلویح موجود ہے نہ بھی ہو منشاء قرآن کے تو مطابق ہے اور ائمہ ثلثہ نے قریباً اسی کے مطابق اپنا اصول فقہ قائم رکھا ہے تو پھر اسکو کیوں قبول نہ کریں؟ اور اگر یزید بن ربیعہ کا اس کے راویوں میں سے ہونا اس کو ضعیف کرتا ہے تو ایسا ہی قرآن کی منشاء سے اس کا مطابق ہونا اسکے ضعف کو دور کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايْتِهِ يُؤْمِنُوْنَ کے یعنی بعد الله جل شانہ کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ ہر ایک قول اور حدیث کتاب اللہ پر ☆ ہم اس سے پہلے ایک نوٹ میں لکھ آئے ہیں کہ موجودہ مطبوعہ نسخ بخاری میں باللفظ یہ حدیث مذکور نہیں۔ نہ سہی نقاد بصیر سمجھ سکتا ہے کہ صحاح میں اس معانی کی مؤید و شاہد احادیث وارد ہیں تو کیا حرج ہے۔ اگر ان لفظوں میں بخاری کے اندر یہ حدیث نہ ہو۔ لفظوں سے اتنا عرض کرنے کی کیا جگہ ہے۔ کیا نفس الامر میں یہ مضمون صحیح نہیں کہ صرف کتاب اللہ کی موافقت و مخالفت حدیث کے قبول ورد کی معیار ہو سکتی ہے؟ قرآن اسی کا شاہد ہے ائمہ ثلاثہ کا مذہب بھی یہی ہے تو پھر بایں الفاظ صد بار نہیں ہزار بار ایک کتاب بخاری میں نہ ہو! ایڈیٹر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے شافعی “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ا الحشر : ٢٨ الجاثية : ۷