اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 512
صفحہ ۳۶۲۔وہ سر جو اس کے مبارک قدموں میں نہ پڑے مفت کا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھ<mark>ان</mark>ا پڑتا ہے صفحہ ۳۶۴۔یہی بہتر ہے کہ میں اس کی راہ میں ج<mark>ان</mark> قرب<mark>ان</mark> کردوں اگر میں نہ رہوں تو دنیا کا کیا نقص<mark>ان</mark> ہے صفحہ ۳۶۷۔جب تو دل والوں کی کوئی بات سنے تو مت کہہ اٹھ کہ غلط ہے۔اے عزیز ! تو بات نہیں سمجھ سکتا غلطی تو یہی ہے صفحہ ٹائٹل نش<mark>ان</mark> آسم<mark>ان</mark>ی۔اس کتاب کا نام ’’نش<mark>ان</mark> آسم<mark>ان</mark>ی‘‘ہے اگر ہو سکتا ہے تو اس کی نظیر لا۔یا تو اپنے صوفی کو باہر نکال یا پھر بدگم<mark>ان</mark>ی سے توبہ کر صفحہ ۳۸۱۔<mark>ان</mark> اشعار کا ترجمہ صفحہ ۳۹۵ تا ۴۰۱ میں آچکا ہے صفحہ ۳۸۴۔تیری زلفوں پر دھی<mark>ان</mark> دینا کچے لوگوں کا کام نہیں کیونکہ <mark>ان</mark> زنجیروں کی نیچے آج<mark>ان</mark>ا حد درجہ کی چالاکی ہے صفحہ ۳۹۰۔ہر بات کا ایک وقت اور ہر نکتہ کا ایک مقام ہوتا ہے صفحہ ۳۹۱۔نبی اولیاء کی ش<mark>کل</mark> میں جھلک دکھاتے ہیں۔ہر زم<mark>ان</mark>ہ میں ایک نئے روپ میں آتے ہیں صفحہ ۴۱۲۔اگرچہ <mark>کسی</mark> کو بھی متوجہ نہ کرسکے۔پیغام لے ج<mark>ان</mark>ے والوں کی ذمہ داری پیغام پہنچ<mark>ان</mark>ے تک ہے صفحہ ۴۱۶۔سائل کو چاہیے کہ وہ صبر کرنے والا اور برداشت کرنے والا ہو