اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 497

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۹۷ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ہو گیا اور گناہ اور نافرمانی اور نفس پرستی کے ہزار ہا دروازے کھل گئے ۔ چنانچہ عیسائی لوگ ۴۲ خود اس بات کے قائل ہیں اور پادری فنڈر صاحب مصنف میزان الحق فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کی کثرت گناہ اور ان کی اندرونی بد چلنی اور فسق و فجور کے پھیلنے کی وجہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بغرض سزا دہی اور تنبیہ عیسائیوں کے بھیجے گئے تھے۔ پس ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ زیادہ تر گناہ اور معصیت کا طوفان مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد ہی عیسائیوں میں اُٹھا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ مسیح کا مرنا اس غرض سے نہیں تھا کہ گناہ کی تیزی اس کی موت سے کچھ رو بہ کمی ہو جائے گی مثلاً اس کے مرنے سے پہلے اگر لوگ بقیه حاشیه:- ہیں کہ تمام مہذب اور تعلیم یافتہ جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک بھی میری نظر میں ایسا نہیں جس کی نگاہ آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو بلکہ تمام لوگ سر سے پیر تک دنیا پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ اب ان تمام بیانات سے ظاہر ہے کہ مسیح کے قربان ہونے کی وہ تاثیریں جو پادری لوگ ہندوستان میں آ کر سادہ لوحوں کو سناتے ہیں ، سراسر پادری صاحبوں کا افترا ہے۔ اور اصل حقیقت یہی ہے کہ کفارہ کے مسئلہ کو قبول کر کے جس طرف عیسائیوں کی طبیعتوں نے پلٹا کھایا ہے وہ یہی ہے کہ شراب خواری بکثرت پھیل گئی ۔ زنا کاری اور بد نظری شیر مادر سمجھی گئی ۔ قمار بازی کی از حد ترقی ہوگئی ۔ خدائے تعالیٰ کی عبادت سچے دل سے کرنا اور بکلی رو جق ہو جانا یہ سب باتیں موقوف ہو گئیں ۔ ہاں انتظامی تہذیب یورپ میں بے شک پائی جاتی ہے۔ یعنی باہم رضامندی کے برخلاف جو گناہ ہیں جیسے سرقہ اور قتل اور زنا بالجبر وغیرہ جن کے ارتکاب سے شاہی قوانین نے بوجہ مصالح ملکی روک دیا ہے ان کا انسداد بے شک ہے مگر ایسے گناہوں کے انسداد کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح کے کفارہ کا اثر ہوا ہے بلکہ رعب قوانین اور سوسائٹی کے دباؤ نے یہ اثر ڈالا ہوا ہے اگر یہ موانع درمیان نہ ہوں تو حضرات مسیحیان سب کچھ کر گزریں اور پھر یہ جرائم بھی تو اور ملکوں کی طرح یورپ میں بھی ہوتے ہی رہتے ہیں انسداد گلی تو نہیں ۔ منہ