اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 433

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۳۳ نشان آسمانی ہے۔ اس اشتہار کے پڑھنے پر جو صاحب چندہ کیلئے طیار ہوں وہ اس عاجز کو اطلاع دیں۔ والسلام على من اتبع الهدى المشتهر غلام احمد از قادیان رساله نشان آسمانی ۲۶ رمتی ۱۸۹۲ء کی امداد طبع کیلئے جو مخلص دوستوں کی طرف خط لکھے گئے تھے ان کا خلاصہ جواب خلاصه خط اخویم مولوی سید تفضل حسین صاحب تحصیل دار علی گڑھ ضلع فرخ آباد سلمہ اللہ تعالی دو والا نا مے بندگان عالی شرف ورو دلائے باعث عزت ہوئے مجھ کو بہت شرم ہے کہ عرصہ سے میں ۴۵ نے کوئی عریضہ حضور میں نہیں بھیجا مگر ہر وقت یاد بندگان والا میں رہا کرتا ہوں ۔ حضور کا نام نامی میرا وظیفہ ہے اور اکثر حضور کی کتب دیکھا کرتا ہوں اور ان کو ذریعہ بہتری دارین سمجھتا ہوں پچاس جلد رساله نشان آسمانی یا جس قدر حضور خود چاہیں میرے پاس بھجوا دیں میں ان کو خرید لوں گا اور اپنے دوستوں میں میں تقسیم کر دوں گا مجھے حضور کی کتابوں کی اشاعت سے دلی خوشی پہنچتی ہے میرے سب اہل و عیال خوش اور اچھے ہیں اور حضور کو یاد کیا کرتے ہیں۔ یہی ہے اور عریضه نیاز کمترین تفضل حسین از علی گڑھ ضلع فرخ آبا د ا ۳ مئی ۱۸۹۲ء مولوی صاحب موصوف چندہ امدادی دیتے ہیں اور امداد کے طور پر اپنی تنخواہ میں سے رقم کثیر دے چکے ہیں۔ خلاصه خط اخویم نواب محمد علی خان رئیس کو ٹلہ مالیر سلمہ اللہ تعالیٰ جناب کا عنایت نامہ پہنچا۔ بندہ رسالہ نشان آسمانی کی دو سو جلد فی الحال خرید کرے گا۔ راقم محمد علی خان نواب صاحب موصوف ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ پانچسو روپیہ کی کتابیں اس عاجز کی خرید کر کے محض للہ تقسیم کر چکے ہیں۔ خلاصه خط اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی سلمہ اللہ تعالی سات سو جلد رسالہ نشان آسمانی نابکار کے خرچ سے چھپوایا جائے اور فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت حضور اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ فرماویں بین روپیہ معہ بقیہ چندہ دو