اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 367
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۶۷ میر عباس علی صاحب لدھانوی آسمانی فیصلہ چو بشنوی سخن اهل دل مگو که خطا است سخن شناس نه دلبرا خطا اینجا است یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے افسوس کہ وہ بعض موسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آ گئے بلکہ جماعت اعداء میں داخل ہو گئے ۔ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ ان کی نسبت تو الہام ہوا تھا کہ اصلها ثابت وفرعها في السماء اس کا یہ جواب ہے۔ کہ الہام کے صرف اس قدر معنے ہیں کہ اصل اس کا ثابت ہے اور آسمان میں اس کی شاخ ہے اس میں تصریح نہیں ہے کہ وہ باعتبار اپنی اصل فطرت کے کس بات پر ثابت ہیں بلاشبہ یہ بات ماننے کے لائق ہے کہ انسان میں کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی ہوتی ہے جس پر وہ ہمیشہ ثابت اور مستقل رہتا ہے اور اگر ایک کا فر کفر سے اسلام کی طرف انتقال کرے تو وہ فطرتی خوبی ساتھ ہی لاتا ہے اور اگر پھر اسلام سے کفر کی طرف ان انتقال کرے تو اس خوبی کو ساتھ ہی لے جاتا ہے کیونکہ فطرت اللہ اور خلق اللہ میں تبدل اور تغیر نہیں افراد نوع انسان مختلف طور کی کانوں کی طرح ہیں کوئی سونے کی کان کوئی چاندی کی کان کوئی پیتل کی کان پس اگر اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کا ذکر ہو جو غیر متبدل ہو تو کچھ عجب نہیں اور نہ کچھ اعتراض کی بات ہے بلا شبہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہیں کفار میں بھی بعض فطرتی خوبیاں ہوتی ہیں اور بعض اخلاق فطرتاً ان کو حاصل ہوتے ہیں خدا تعالیٰ نے مجسم ظلمت اور سراسر تاریکی میں کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کیا ہاں یہ سچ ہے کہ کوئی فطرتی خوبی بجز حصول صراط مستقیم کے جس کا دوسر۔ لفظوں میں اسلام نام ہے موجب نجات اخروی نہیں ہوسکتی کیونکہ اعلیٰ درجہ کی خوبی ایمان اور خدا شناسی اور راست روی اور خدا ترسی ہے اگر وہی نہ ہوئی تو دوسری خوبیاں ا بیچ ہیں ۔ علاوہ اس کے یہ الہام اُس زمانہ کا ہے کہ جب میر صاحب میں ثابت قدمی نا مثل پیچ ۳