اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 323
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۳ الحق مباحثہ دہلی جواب ہو چکا بطور کلی مشلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس وصف میں ایسے درجہ کمال پر پہنچے ہوئے ہیں کہ کوئی دوسرا نبی و ملک اس میں شریک نہیں ہے این ہم فیصلہ شد۔ اعتراض چہارم آپ کا یہ ہے کہ غزوہ بدر وغز وہ حدیبیہ میں جو غلطی آپ سے ہوئی وہ آپ کے نزدیک جناب باری عزا اسمہ سے ہوئی ہوگی ۔ الجواب۔ اے میرے پیارے دوستو بغضك الشيء يعمى و يصم ـ افسوس مرزا صاحب کے بغض بلا وجہ نے آپ کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب است - باوجود یکہ مرزا صاحب کے کلام میں جا بجا تصریحات موجود ہیں کہ یہ وصف اتحاد بطور استعارہ و مجاز کے ہے نہ حقیقتاً بلکہ خود شعر میں لفظ (آنچنان ) کا جو خاص مجاز کے واسطے آتا ہے موجود ہے اور یہ عبارت ( کہ ذرہ امکان بالكة الذات باطلة الحقیقت اس ذات اعلیٰ واجب الوجود سے کیونکر برابر ہو سکتا ہے ) بھی توضیح المرام میں موجود ہے۔ آپ یہی سمجھتے ہیں کہ مرزا صاحب وحدۃ الوجود کے قائل ہیں کلام کلا ۔ اے میرے پیارے دوستو ۔ یہ اعتراض تو اس شخص پر وارد ہو سکتا ہے جو قائل ہو اتحاد حقیقی کا نعوذ بالله منه ایں ہم فیصلہ شد۔ اور یہ اعتراض کہ آیت كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ سے اتحاد ثابت نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو کچھ مفید نہیں کہ اس میں کل شی ء مشترک ہے۔ الجواب۔ بے شک معنے ظاہری آیہ سے اتحاد ثابت نہیں ہوتا اور جو ایک طرح کے اشارہ سے اولیاء وعرفاء اتحاد مجازی نکالتے ہیں وہ معنے بہت خفی ہیں۔ غیر پر حجت بعینہ نہیں ہو سکتے۔ میں نے ضمن میں دیگر آیات کے اس آیہ کو بھی لکھ دیا تھا۔ لیکن وہ معنے خفی باطل بھی نہیں کیونکہ اتحاد مجازی کو تو آپ بھی تسلیم فرما ہی چکے ہیں کہ یہ وصف تو ادنیٰ خادمین