اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 320
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۰ الحق مباحثہ دہلی کا اتحاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتحاد حقیقی ہے جو با جماع مسلمین باطل ہے اور اگر اتحاد مجازی مرز اصاحب ہی حضرت علی الا ضرت مراد لی جاوے تو اُس میں کوئی فضیلت حضرت نبی علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوتی ۱۸۷ ت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہو ۔ سے افضل ہوئے جاتے ہیں کہ ابن اللہ ہیں۔ الجواب۔ بے شک اتحاد حقیقی باطل ہے باطل ہے اور پھر باطل ہے امنا ببطلانہ یہی ہمارا آپ کا عقیدہ ہے اور مرزا صاحب کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ اتنا فرق عبارتی ہے کہ آپ نے فرمايا اتحاد الممكن مع الواجب باطل اور مرزا صاحب اس سے بڑھ کر فرماتے ہیں۔ اتحاد ذرة الامكان هالكة الذات باطلة الحقيقة مع الذات الاعلى الواجب وجودہ باطل ۔ اور وصف اتحاد مجازی کا آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمین کو بھی تسلیم فرما چکے ہیں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطریق اولی حاصل ہوگا۔ اُس میں ہمارا آپ کا کوئی نزاع نہیں ہے صرف شبہ یہ رہا کہ جو وصف مشترک ہے اُس میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خصوصیت اور فضیلت حاصل نہیں ہوتی ۔اے میرے پیارے دوستو اسی قدر آپ کی غلط فہمی ہے۔ اگر یہ غلطی رفع ہو جاوے تو فیصلہ شد۔ اب اس کا رفع لیجئے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ وصف منعم علیہم ہونے کا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مومنین صالحین تک مشترک ہے قال الله تَعَالَى اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ وقال : وقال تعالى في تفسيره - مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ " تو کیا اس وصف میں آپ جو میرے نزدیک صالحین میں داخل ہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں مــا هـو جـوابـكـم فهو جوابنا ۔ اس کو بھی رہنے دیجئے وصف مومن ہونے کا ایک ایسا وصف ہے جس میں مومن فاسق سے لے کرتا حضرت خاتم النبیین سب میں پایا جاتا ہے۔ اور سب کو مومن کہتے ہیں تو الفاتحة : ٧٦ ٢ النساء : ٧٠ L