اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 314
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۱۴ الحق مباحثہ دہلی جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام پر افضل و فایق قرار دینا ہے علاوہ بریں مرزا صاحب اس مقام پر جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کے علوشان اور فوقیت على أمسیح علیہ السلام بیان کرنا چاہتے ہیں اور اس عام وصف کے بیان کرنے سے وہ مطلب حاصل نہیں ہو سکتا جس سے مرزا صاحب کا کلام مہمل ہوا جاتا ہے اس لئے ضرور دوسری قسم معنے اتحاد حقیقی اور وحدت ذاتی مراد ہونے چاہیے اور یہی ہمارا سوال تھا کہ ان شعروں سے اتحاد الممكن مع الواجب ثابت ہوتا ہے جو با جماع المسلمین باطل ہے ۔ اشهد ان محمدا عبده و رسوله + سبحان الذي أَسْرَى بِعَبْدِهِ + فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى + قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى + آپ کو واضح ہو گیا ہوگا کہ صرف لا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ پر آپ ہی نے نظر کو مقصور و محصور رکھا ہے نہ خاکساروں نے قو لکم ان آیات کے کیا معنے ہوں گے دنی فَتَدَلَّی الخ ۔ جناب من ان آیات کے وہی معنے ہیں جو عا ئشہ رضی اللہ عنہا اور یا جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ لیکن وہ آپ کو کیا مفید ہیں تو لکم وَ مَا رَمَيْتَ الخ ۔ اس قسم کا خطاب اوروں کے حق میں بھی موجود ہے جو مسیح علیہ السلام سے کم ہیں ۔ الله يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا ل ۔ (سورة الزمر) (۱۸۳) إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ " (يس) فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ - كنت مرضت فلم تعدنی ۔ مگر مرزا صاحب اپنے شعر میں ایسا وصف بیان کرنا چاہتے ہیں جو آپ کی ذات کامل الصفات پر ختم ہو گیا ہو اور اس سے آپ کا کمال علو منصب ثابت ہو برخلاف آیہ کریمہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ " کے کہ اُس سے یہ مقصود نہیں پس مرزا صاحب کے شعر کو آیت کریمہ پر قیاس کرنا درست نہیں ہو سکتا قولكم وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الهوى - الخ۔ غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں جو غلطی آپ سے ہوئی تھی بقول آپ کے جناب باری عز اسمۂ سے ہوئی ہوگی ۔ افسوس مرزا صاحب کے عشق نے آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا یا سچ ہے حبك الشيء يعمى و يصم قولكم إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ الخ ۔ الزمر : ۴۳ ۲یس: ۱۵ الانفال: ۱۸ الانفال: ۱۸