اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 307
روحانی خزائن جلد ۴ ٣٠٧ الحق مباحثہ دہلی طرح کوئی چاہے قرآن کے معنے گھڑ سکتا ہے اور در صورت تسلیم قاعدہ اور تسلیم تعمیم مضمون آیت ۱۷۷ بزمانه حال و استقبال یا تجدد دوامی کے اس مضمون کی تخصیص زمانہ نزول مسیح سے فلاں دلیل کی شہادت سے ثابت ہے یا اس تعمیم سے جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اور صورتوں اور اور معنے سے بھی جو بیان کئے گئے ہیں حاصل ہو سکتا ہے اور اگر مجرد اختلاف ایک دو مفسرین کا تفسیر آیت میں اس تعمیم کا مبطل ہو سکتا ہے اور مجرد اقوال ایک دو مفسر کے آپ کے نزدیک لائق استدلال و استناد ہیں تو آپ مفسرین صحابہ و تابعین کے ان اقوال کو جو دربارہ وفات مسیح وارد ہیں اور صحیح بخاری وغیرہ میں مذکور ہیں قبول کریں۔ کیونکہ اصح الکتاب بعد كتاب الله صحیح البخاری مسئلہ مسلمہ ہے یا ان کے ایسے معنے بتادیں جن سے حیات مسیح ثابت ہو ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جہان کے مفسرین اور جملہ صحابہ و تابعین ہمارے ساتھ ہیں ان میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ مسیح بن مریم کی حیات اس آیہ سے بطور قطعية الدلالت کے ثابت ہوتی ہے آپ ایک صحابی یا ایک تابعی یا ایک امام مفسر سے یہ سند صحیح اگر یہ ثابت کر دیں کہ حضرت مسیح کی حیات اس آیت سے بطور قطعیہ الدلالت کے ثابت ہے اور برہان قطعی اس کی یہ ہے تو ہم وفات مسیح سے دست بردار ہو جاویں گے لیجئے ایک ہی بات میں بات طے ہوتی ہے اور فتح ہاتھ آتی ہے۔ اب اگر آپ یہ ثابت نہ کر سکے تو ہم سے تمیں آیات قرآن شریف اور احادیث صحیح بخاری وغیرہ اور صحابہ و تابعین کے اقوال سنیں جن کو ہم آئندہ بھی جواب رد ازالہ اوہام میں انشاء اللہ تعالیٰ نقل کریں گے جیسا کہ بعض اب بھی بیان کئے گئے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں عامہ ناظرین تو اس سے فائدہ اٹھاویں گے اور اس سے نتیجہ بحث نکالیں گے آپ سے ہم کو امید نہیں رہی کہ آپ اصل مدعا کی طرف آئیں اور زائد باتوں کو چھوڑ کر صرف وہ دو حرفی جواب دیں جو اس منصفانہ جواب میں آپ سے طلب کیا گیا ہے۔واخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين والصلوة والسلام على خير خلقه محمد وآله وأصحابه اجمعين وعلى من اتبع الرشد و الهدى من بعد ماتبين من الغي والطغوى - محرره سیم ربیع الثانی ۱۳۰۹ کتبہ محمد احسن ۔ امر وہی نزیل بھوپال ۔