اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 298
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹۸ الحق مباحثہ دہلی ۱۶۸ قطعی الدلالت ہونے میں مضر نہیں ہو سکتا اور یہ چند مرتبہ گذر چکا کہ آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ کو حضرت اقدس نے دربارہ وفات مسیح قطعی الدلالت کہیں نہیں لکھا قولہ اور تفسیر مظہری والے کا یہ تقول الح اقول مولانا صاحب قول صاحب تفسیر مظہری کا اگر آپ کے نزدیک تقول تھا اور مخدوش تھا اور مخالف تھا عامہ تفاسیر کی تو کسی تفسیر سے اس کا مخدوش ہونا بدلائل ثابت کیا ہوتا بلا وجہ کسی مفسر کے قول مبرہن کو مخدوش اور تقول اور مخالف کہہ دینا دیانت اور انصاف کے خلاف ہے اور جو صارف معنے حال سے جناب نے نون ثقیلہ کو قراردیا تھا وہ تو صارف رہا ہی نہیں پھر اگر کوئی طالب حق تفسیر مظہری کی طرف سے آپ کی خدمت میں یہ کہے کہ لام تاکید جو حال کے واسطے آتا ہے وہ صارف عن معنے الاستقبال ہے تو آپ اس کا کیا جواب دیویں گے اور طرفہ یہ ہے کہ جس تفسیر کی عبارت کو جناب نے دار مدار اپنے مباحثہ کا گردانا ہے اور مناط استدلال اس کو قرار دیا ہے اس عبارت میں خود جناب نے یہ قول بھی نقل کیا ہے۔وقال الحسن البصری یعنی النجاشي و اصحابه رواهما ابن ابی حاتم ۔ اب آپ ہی انصاف فرماویں کہ جب حال کے معنے آپ کے نزدیک محض باطل تھے تو جناب نے قول حسن بصری کو جو مناقض آپ کے مدعا کے ہے کیوں نقل فرمایا اور اس کا ابطال بدلیل کیوں نہیں کیا یہ کیا بات ہے کہ جس معنے کو التزاماً آپ مراد لیتے ہیں اس پر استدلال قول مناقض سے کیا جاوے۔ إِنَّ هَذَا لَشَيءٌ عجاب اور رواۃ اسناد قراءت ابی بن کعب کی جو تفسیر ابن کثیر میں درج ہیں اور جناب نے ان کی تضعیف کی ہے اور علم اسماء الرجال میں ہمہ دانی ظاہر فرمائی ہے اس کی نسبت یہ گذارش ہے کہ جناب کی تحریر میں خفیف بالفا لکھا ہوا ہے اور تقریب میں کسی جگہ خفیف کا ترجمہ نہیں لکھا اگر خصیب بصاد و با ا ہے تو جناب پر واجب تھا کہ اول تو بمقابل حضرت اقدس مرزا صاحب کے جو آپ کے نزدیک علم اسماء الرجال میں دخل نہیں رکھتے اور شائد اس علم میں حضرت اقدس کو توجہ والتفات نہ ہوا ہو کیونکہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی حجتہ اللہ میں اس علم کو قشر علوم حدیث فرمایا ہے اندریں صورت آپ ثابت کرتے کہ خصیب تین ہیں جن میں سے یہاں پر خصیب بصیغہ تصغیر معین ہے اور یہ ترجمہ اس کا جو مراتب اثنا عشر سے مرتبہ خامسہ پر واقع ہے کہ بموجب علم اصول حدیث کے اس مرتبہ خامسہ کا فلاں حکم ہے مثلاً یہ کہ حدیث اس کی اس مرتبہ فلاں کی ہوتی ہے۔ على هذا القياس - عتاب بن بشیر کا مرتبہ بھی مراتب اثنا عشر سے مرتبہ خامسہ پر ہے پس بمقابلہ ہم جیسے طلبہ کے جو علم اسماء الرجال سے بے خبر ہیں اس قدر تو آپ پر ضرور واجب تھا کہ رواۃ مرتبہ خامسہ کا حکم علم اصول حدیث سے بیان فرما دیتے تا کہ یہ معلوم ہو جاتا کہ ایسے رواۃ مرتبہ خامسہ کی روایت سے جو کوئی قراءت آئی ہو اس سے تائید