اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 294

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹۴ الحق مباحثہ دہلی ۱۶۴ یا حدیث صحیح سے یا قول صحابی سے ثابت کریں اور اس آیہ کو آپ بھی تو پیش نظر رکھیں کہ آتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ قوله یہ بات بھی آپ کی سراسر مغالطہ دہی پر مبنی ہے الخ ۔ اقول جناب نے بغیر سوچے اور تامل کئے اس مغالطہ کو جس کے مسند الیہ آپ ہی ہیں ۔ حضرت اقدس کی طرف نسبت کیا ہے بیان اس کا یہ ہے کہ جو علماء عارف باللہ اور مؤید من اللہ ہوتے ہیں وہ بتائید روح القدس جملہ علوم کا استخراج قرآن مجید سے کر سکتے ہیں۔ قال الله تعالى : لَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِينِ ، وايضا قال الله تعالى وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - وايضًا قال الله تعالى : وَعَلَّمْتُهُ مِنْ لَّدُنَّا علما ہے اور علماء ظاہر کو یہ بات نصیب نہیں ہو سکتی ان کو البتہ اشد احتیاج طرف علوم رسمیہ اور فنون درسیہ کی ہوتی ہے یہ مسئلہ اپنے محل پر ثابت کیا گیا ہے اور کافی و کامل طور پر آیت کے معنے کا کھل جانا اور اس پرا کا بر مومنین اہل زبان کی شہادت مل جانا ثابت ہو گیا اب اس کا کوئی اہل علم انکار نہیں کر سکتا اور کوئی قاعدہ نحویہ اجماعیہ آپ نے ایسا بیان نہیں فرمایا جس کا ادھر سے انکار کیا گیا ہو۔ اور نون ثقیلہ کا حال تو آپ کو معلوم ہو چکا اور اب یہ بھی سنا جاتا ہے کہ سابق میں جس قدر شد و مد سے نون ثقیلہ کی بحث طلبہ کے روبرو بیان فرمایا کرتے تھے اب اس نون ثقیلہ کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ مثل مشہور ہے جولة غيــر الــحــق ساعة وجولة الحق الى الساعة اور حضرت اقدس نے کسی علم میں آپ سے الزام نہیں کھایا۔ تمام علوم رسمیہ اور فنون درسیہ کے رو سے جناب پر ہی الزام عائد ہو گیا ہے۔ كما مر ۔ اور ایسی باتیں کرنے سے جو آپکی یہ غرض ہے کہ حضرت اقدس کی نا واقعی علوم درسیہ سے لوگوں پر ثابت کریں یہ غرض ہرگز حاصل نہیں ہوگی ۔ کیونکہ علاقہ پنجاب میں سب کو معلوم ہے کہ اوائل عمر میں سب مراحل اور جملہ منازل علوم درسیہ کے بھی آپ طے فرما چکے ہیں اور فی الحقیقت یہ سچ ہے کہ علماء ظاہر کو ان علوم سے چارہ نہیں پھر مع هذا آپ نے جو علماء ظاہر میں سے ہیں ان علوم کو کیوں ترک فرما رکھا ہے۔ پس اگر جناب کو حضرت اقدس سے مباحثہ کرنا ہے تو پہلے ان دو کاموں میں سے ایک کام کیجئے اور اگر ایک بھی آپ قبول نہ کریں گے تو یہ امر اس بات پر محمول ہوگا جس کو آپ حضرت اقدس کی طرف منسوب فرماتے ہیں یا تو ان علوم درسیہ کی اجماعی باتوں کے تسلیم کرنے کا اقرار کیجئے یا بالفعل مناظرہ موقوف کر کے ایک ایک کتاب ایسے قاعدوں کی رائج و شائع کیجئے جیسا نون ثقیلہ کا قاعدہ جناب نے ایجاد فرمایا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہو کہ ان قواعد نو ایجاد کو سب علمائے اسلام البقرة: ۴۵ - الانعام: ۶۰ ۳ العنكوت : ٧٠ الكهف : ٦٦