اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 276

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۷۶ الحق مباحثہ دہلی ۱۴۶ جس کی تائید قراءت غیر متواترہ کرتی ہے۔ بعد اللتيا والتي حضرت اقدس نے ارجاع ضمیر کو طرف کتابی یا احد مقدر کی کسی جگہ اپنی تحریر میں غیر صحیح نہیں فرمایا اگر آپ نے کسی تحریر میں دیکھا ہو تو بہ صحیح نقل بیان فرمایا جاوے۔ آگے رہی یہ بات کہ موت مسیح پر استدلال حضرت اقدس نے اس آیہ سے کیا ہے اس کی نسبت یہ گذارش ہے کہ کسی جگہ اس استدلال کو قطعی الدلالت نہیں فرمایا۔ جب کہ آیت ذوالوجوہ ہے تو نہ حیات مسیح پر قطعی الدلالت ہو سکتی ہے اور نہ وفات مسیح پر ۔ ادلہ وفات مسیح بطور تعین و قطع کے اور بہت ہیں جو او پر سابق میں گذر چکیں اور ازالہ میں بہ تفصیل مذکور ہیں۔ مگر ایسی آیت ذوالوجوہ کو حیات مسیح پر قطعی الدلالت ٹھہرانا یہی تو مو نا یہی تو مجادلہ ہے کہ جس میں مناظرہ کا رائحہ بھی موجود نہیں ہے۔ قولہ یہاں ارادہ حال غلط محض ہے بلکہ خالص مستقبل مراد ہے بچند وجوہ اقول یہاں پر تو مولا نا صاحب نے کمال ہی کیا ہے کہ نون ثقیلہ کے غلبہ ونقل خیال میں ترتیب آیات جو درایا وروایتا مراد الہی ہے اس کو بھی غلط محض فرما دیا۔ در ایتا بیان اس کا یہ ہے کہ آیت قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ میں مولوی صاحب کانون ثقیلہ تو موجود ہے ہی نہیں جو خالص استقبال ہی مراد ہو اور حال مراد نہ ہو سکے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ قد نری میں زمانہ حال مراد ہے اور فَلَنُوَلِيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا میں حرف فا داخل ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ قد نری پر مترتب بلا مہلت ہووے۔ مسئلہ نحو مجمع علیہ ہے کہ الفاء للترتيب اى للجمع مع الترتيب بلامهلة پس فَلَنُوَلِيَنَّگ کا بھی حال ہی ہوا۔ اور فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سے میں بھی وہی حرف فاموجود ہے جو با تفاق نحاۃ ترتیب بلا مہلت کے واسطے آتی ہے پس نظم و نسق آیات سے معلوم ہوا کہ قد نری الایہ پر فَلَنُوَلِيَنَّكَ الا یہ بلا مہلت مترتب ہوا اور فَلَنُوَلِيَنَّكَ الآ یہ پر فول وجهك الا یہ بلا مہلت متربت اور متسبب ہوا کوئی فاصلہ زمانہ دراز یا کوتاه کا در میان ان آیات کے واقع نہیں ہے جو فَلَنُوَلینگ کو خالص زمانه استقبال در از یا کوتاہ کیلئے ہی قرار دیا جاوے۔ پس در ایتاً ثابت ہوا کہ فَلَنُوَلِيَنَّنگ میں زمانہ حال مراد ہے جس کی مقدار مختلف اور مفوض الى العرف ہے اور روایتاً بیان اس کا یہ ہے حواشی بخاری شریف میں لکھا ہے۔ ثم اعلم ان الروايات اختلفت فى ان التحويل هل كان خارج الصلوة بين الظهر والعصر او في اثناء صلوة العصر فالظاهر من حديث البراء الذي سبق في كتاب الايمان في صفحه ١٠ انه كان خارج الصلوة حيث قال انه صلى الله عليه وسلم صلى اول صلوة صلاها الى الكعبة صلوة العصر الحديث قال مجاهد و غیره نزلت اتاس البقرة : ۱۴۵