اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 268
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۶۸ الحق مباحثہ دہلی ۱۳۸ نون تاکید ۔ اس کو تو حضرت اقدس نے ایسا تو ڑا ہے کہ اس سے زیادہ ہرگز متصور نہیں کیونکہ اس بات کو سب علماء وطلبہ جانتے ہیں کہ تمام اصول علوم رسمیہ کے اور جملہ قواعد اور فنون درسیہ کے جو کتب فن میں محمہد اور مشید کئے جاتے ہیں ان کے اثبات اور استحکام کے واسطے شواہد قرآن مجید سے بڑھ کر اور کوئی شاہد نہیں ہے نہ امثال واشعار جاہلیت کا وہ مرتبہ ہے اور نہ اقوال عرب عرباء کا وہ رتبہ مثل مشہور ہے کہ اذاجاء نهر الله بطل نهر معقل جس قاعدہ کے واسطے کوئی آیت قرآن مجید کی شاہد مل جاوے تو پھر اس میں نہ سیبویہ کی حاجت ہے نہ اخفش کی نہ فرا کی ضرورت ہے نہ زجاج کی اس جگہ سب فر یفر ہو جاتے ہیں اور اسکے مقابل میں زجاج زجاج بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور قول مبر د بھی محض بارد ہو جاتا ہے الصباح يغني عن المصباح کا مضمون صادق آتا ہے۔ قرآن مجید میں جب کہ بقراءت متواتره وَالْمُقِيمِينَ الصَّلوةَ بجاۓ والمقيمون الصلوة وارد ہو گیا اور ان لهذين لسحرن بجاۓ ان هذين الساحرين اور وَالصُّونَ سے بجائے والصابئين قراءت متواترہ میں آگیا۔ تو نہ فرا کی چلی نہ اخفش کی ۔ سب کے سب تاویلات رکیکہ بنا رہے ہیں اور کچھ نہیں ہو سکتا اور اصل وہی ہے جو حکیم امت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے فرمایا کہ مخالف روز مرہ مشہورہ ہم روز مره است الحاصل یہ جناب والا کا بھی اقرار ہے جو پرچہ ثالث میں مندرج ہے کہ اصول فقہ اور اصول حدیث جملہ علوم خادم کتاب وسنت کے ہیں اور کتاب اللہ سب کی مخدوم ہے۔ اب یہ گذارش ہے کہ با وجود یکه حضرت اقدس مرزا صاحب نے متعدد آیات قرآن مجید اور عبارت تفاسیر معتبرہ سے واسطے جرح کرنے آپ کے نون تاکید کے تحریر فرمائی ہیں۔ پھر آپ یہ کیا معمے فرماتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب نے نہ تو کوئی عبارت کسی کتاب نحو کی نقل کی اور نہ ان عبارات میں جو خاکسار نے نقل کی تھیں کچھ جرح کی ۔ اِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ " قوله اور یہ امر بھی مخفی نہ رہے کہ میری اصل دليل الى قوله دوسری آیات محض تائید کیلئے لکھی گئی ہیں الخ ۔ اقول جب کہ آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه ۔۔ جناب کے نزدیک قطعی الدلالت ہے تو دیگر مو یا الدلالت ہے تو دیگر مؤیدات کے پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے اسی سے ثابت ہوا کہ آیت مذکور جناب کے نزدیک قطعی الدلالت نہیں ہے ور نہ تائید کی کیا ضرورت ہوتی ہذا خلف ۔ خلاصہ یہ کہ اگر آیت مذکورہ کو قطعية الدلالت کہتے ہو تو دیگر مؤیدات کی ضرورت نہیں اور اگر تائید اس کی دوسری آیات سے کرتے ہو تو خود وہ آیت ا النساء : ١٦٣ طه : ۶۴ المائدة : ٧٠ ٢ ص : ه النساء : ۱۶۰