اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 257
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۵۷ الحق مباحثہ دہلی وجه لان يراد بـه فـريـق من اهل الكتب يوجدون حين نزول عیسی علیه ۱۲۷ السلام وقال الزجاج هذا القول بعيد لعموم قوله تعالى وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ والذين يبقون يومئذ يعنى عند نزوله شرذمة قليلة منهم - كذا في فتح البيان - اور اس ہیچمد ان کے بیان سے بحوالہ مطول و ہوامش وغیرہ اُس کے کے دوام تجد دی اور حال و استقبال کا مراد ہونا بحسب مقامات مناسبہ ثابت ہو چکا ۔ پس اب مولوی صاحب کو لازم ہے کہ بہ تقاضائے اتقاء خشية الهیه کے حسب اقرار خود اس اپنے مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم فرماویں قال اور حاصل ترجمہ یہ ہے۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب آیات بینات سے یہ امر بخوبی ثابت فرما چکے کہ ایسا زمانہ قیامت تک کبھی نہیں آسکتا کہ بسیط الارض پر کوئی فرقہ کفرہ فجرہ کا باقی نہر ہے۔ ہاں البتہ غلبہ اور ظہور اہل اسلام کا کبھی جسمانی طور پر اور کبھی روحانی طور پر اور کبھی براہین احمد یہ کے رُو سے بالضرور ہو گا ۔ خود آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله جو مفسرین نے زمانہ سیح بن مریم کے واسطے لکھی ہے یہی مضمون بآواز بلند ندا کر رہی ہے اور جمیع ما فی الارض کی ہدایت تو مشیت الہیہ کے محض خلاف ہے۔ قال الله تعالى وَلَوْ شِئْنَا لَا تَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدُهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " ايضا قال تعالى وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ و غير ذلك من الآيات الكثيرة المصرحة بذالك قوله تو اس معنے کے غلط ہونے کی یہ وجہ ہے کہ صاحب القول الجمیل سلمہ اس مقام پر غلط فاحش کا مصدر ہوا ہے الی قولہ اس لئے یہ معنی غلط ہے۔ اقول مولا نا صرف صاحب قول الجمیل سلمہ نے ہی اس جملہ کو جملہ انشائیہ نہیں قرار دیا بلکہ جملہ نخوبین ایسے جملہ کو جو مصدر بقسم ہو خواہ وہ قسم مقدر ہو یا ملفوظ جملہ انشائیہ کہتے ہیں اور حصر جملہ انشائیہ کا صرف صیغہ امر میں یہ جناب والا کا ہی ایجاد ہے۔ جملہ انشائیہ کی اقسام تو سوا امر کے اور بہت ہیں جو ہر ایک کتاب صغیر و کبیر نحو میں مذکور ہیں۔ اس مسئلہ کو نحو میر خوان اطفال بھی جانتے ہیں۔ صاحب القول الجمیل سلمہ نے لیؤمنن کو ہرگز ہرگز صیغہ امر کا نہیں سمجھا النساء: ١٦٠ ٢ التوبة: ٣٣ السجدة : ۱۴ هود : ۱۱۹ ۱۲۰