اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 253
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۵۳ الحق مباحثہ دہلی کہ جسکے سبب سے زمانہ حال مراد نہیں ہو سکتا کہ وہ لفظ یوم القیامة کا ہے مگر مولانا شاہ ولی اللہ صاحب ۱۲۳ نے ترجمہ اسکا بلفظ مضارع کیا ہے۔ والبتہ بیاں کند برائے شما روز قیامت آنچہ دراں اختلاف ہے نمودید ۔ شاید حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے ترجمہ بلفظ مضارع اسواسطے کیا ہے کہ من مات فقد قامت قيامته ، حدیث صحیح ہے پس یہ بیان بطور استمرار کے ہمیشہ جاری ہے قیامت تک یعنی حشر اجساد تک - آیت وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ میں دونوں زمانے حال و استقبال مراد ہو سکتے ہیں۔ کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ شاہ عبد القادر صاحب نے ترجمہ آیت کا برعایت زمانہ حال کیا ہے۔ یعنے اور تم سے پوچھ ہونی ہے جو کام تم کرتے تھے۔ یہاں تک جس قدر آیتیں مولوی صاحب نے لکھیں وہ سب مناقض اور منافی دعوے مولوی صاحب کے ہیں اور موید حضرت اقدس مرزا صاحب کے وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ عدو شود سبب خیر گر خدا خواهد خمیر مایه دوکان شیشه گرسنگ است اس مقام پر ہیچید ان کو وہ مثل یاد آئی جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی آیت کے رکوع میں بیان فرمایا ہے قال الله تعالى - وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا مِنْ بَعْدِقُوَّةٍ انكانا و آيت فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيُوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ کے میں حال واستقبال بلکہ استمرار مراد ہے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ اور شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی ترجمہ اسکا بلفظ مضارع کیا ہے۔ ہر آئینہ زندہ نیمش بزندگانی پاک و بدهیم آنجماع را مزد ایشاں ۔ اور شاہ عبد القادر صاحب فائدہ میں لکھتے ہیں اچھی زندگی قیامت کو جلا دینگے یا دنیا میں اللہ کی محبت اور لذت میں ۔ آیت وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا 1 میں اگر زمانہ استقبال ہی مراد ہے تو حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں کیونکہ حضرت اقدس اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ کسی جگہ ان صیغ میں خالص زمانہ استقبال مراد نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ بحسب مقامات ایسے صیغ میں کہیں تو دوام تجد دی مراد ہوتا ہے جیسا کہ حواشی مطول سے صیغہ مستقبل کا ہونا دوام تجددی کے واسطے نقل ہو چکا اور کہیں حال و استقبال مراد ہوتا ہے اور کہیں خالص استقبال چونکہ یہاں پر سیاق آیہ میں چند قرائن صارفہ عن ارادة الحال موجود ہیں اسواسطے حال مراد نہیں خالص استقبال مراد ہے۔ لیکن مولوی صاحب کا استقبال تو یہاں پر بھی موجود نہیں کیونکہ نزول آیت سے ل النحل : ۹۴ النحل : ٩٣ النحل: ۹۸ بنی اسرائیل : ۵