اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 244

روحانی خزائن جلد ۲۴۴ الحق مباحثہ دہلی قید محض لغو اور بے فائدہ ہو جائیگی ۔ قواعد جو علم بلاغت کی رعایت سے بعید ہے ہے؟ اگر کاش بجاۓ قبل موتہ کے من قبل موتہ بھی ہوتا تو کسی قدرمنافی مدعا نہ ہوتا۔ یہاں پر تو طلب ایمان کا ظرف زمان قبل موته واقع ہوا ہے نہ من قبل موته ـ قال في المطول و مختصره ما حاصله واما تقييد الفعل وما يشبهه من اسم الفاعل والمفعول وغيرهما بمفعول مطلق اوبه اوفيه۔ اوله۔ اومعه۔ ونحوه۔ من الحال والتميز والاستثناء فليترتب الفائده لان الحكم كلما زاد خصوصا زاد غرابة وكلما زاد غرابة زاد افادة۔ كما يظهر بالنظر الى قولنا شيء ما موجود و فلان بن فلان حفظ التوراة سنة كذافى بلدة كذا ۔ اس حیات سے تو حضرت عیسیٰ کی وفات مثل دیگر انبیاء کے ہی اچھی ہوتی ۔ اگر حالت حیات و نیز ممات ان کی میں سب اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا مطلوب الہی ہوتا اور اب تو بعد ان کی موت کے ان پر ایمان لانا اس جگہ مطلوب الہی نہیں رہا۔ ان هذا لشيء عــجــاب بـل هو عين الفساد۔ بحث ترکیب نحوی الا ليؤمنن به ترکیب نحوی میں کیا واقع ہوا ہے۔ اگر احد مقدر کی صفت ہے اور اَحَدٌ مبتدا مقدم الخبر ہے یعنی من الكتاب اس کی خبر واقع ہوئی ہے تو یہ معنے بھی یہ بداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ حاصل معنے یہ ہوئے کہ جو شخص ایسا ہو کہ ایمان لاوے عیسی پر قبل ان کی موت کے وہ شخص اہل کتاب میں سے نہیں ہے حالانکہ یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ اس شخص مومن کا موافق جناب کی مسلک کے اہل کتاب میں سے ہونا کچھ ضرور نہیں ۔ سواء اہل کتاب کے دیگر کفار بھی مسیح ابن مریم کے وقت میں اسلام میں داخل ہوں گے اور اگر الا ليومنن محل خبر میں ہے اور من اھل الکتاب صفت ہے احد مقدر کی اور احد معہ اپنی صفت کے مبتدا ہے تو بھی معنے فاسد ہیں۔ کیونکہ اس صورت میں بھی تخصیص و تقید اہل کتاب کی موہم اس کی ہے کہ سوائے اہل کتاب کے اور ملت والے حضرت عیسی پر ایمان نہ لاویں اور اسلام میں داخل نہ ہوں و هذا خلاف دعواكم۔