اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 214

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۱۴ الحق مباحثہ دہلی ۸۴) بمحمد قبل موت الكتابی یعنی اس آیت کے معنے میں اہل تاویل کا اختلاف چلا آیا ہے ۔ کوئی ضمیر قبل موتہ کی عیسی کی طرف پھیرتا ہے اور کوئی کتابی کی طرف اور کوئی یہ کی ضمیر حضرت عیسی کی طرف پھیرتا ہے اور کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ۔ پس گو ابن جریر یا ابن کثیر کا اپنا مذہب کچھ ہو یہ شہادت تو انہوں نے بڑی بسط سے بیان کر دی ہے کہ اس آیت کے معنے اہل تاویل میں مختلف فیہ ہیں اور ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں ئے ہیں کہ مسیح ابن مریم کے نزول اور حیات پر قطعی دلالت اس آیت کی ہر گز نہیں اور یہی ثابت کرنا تھا۔ اب بعد اس کے کسی قدر بطور نمونہ مسیح ابن مریم کی وفات پر دلائل لکھے جاتے ہیں واضح ہو کہ قرآن کریم میں يُعينَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ الى ۳ موجود ہے۔ قرآن کریم کے عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن میں تو فی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی اس قبض روح میں جوموت کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن کریم میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنے تو فی کے موت لئے ہیں ۔ اور جو نیند کی حالت میں قبض روح ہوتا ہے وہ بھی ہمارے مطلب کے مخالف نہیں ۔ کیونکہ اسکے تو یہی معنے ہیں کہ کسی وقت تک انسان سوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے اور پھر انسان جاگ اٹھتا ہے سو یہ وقوعہ ہی الگ ہے اس سے ہمارے مخالف کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ بہر حال جب کہ قرآن میں لفظ تو فی کا قبض روح کے معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدا تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے جا بجا موت ہی معنے لئے ہیں ۔ تو بلا شبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کیلئے قطعیۃ الدلالت ہو گیا۔ اور بخاری جو اصح الکتب ہے اس میں بھی تفسیر آیت فلما تو فیتنی کی تقریب میں متوفیک کے معنے ممیتک لکھا ہے۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب طبیعی واقع ہے ہر ایک مومن کی روح پہلے فوت ہوتی ہے پھر اس کا رفع ہوتا ہے۔ اسی ترتیب طبعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کر رہی ہے کہ پہلے انی متوفیک فرمایا اور پھر بعد اسکے رافعک کہا اور اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفیک مؤخر ہے۔ یعنی رافعک آیت کے سر پر اور متوفیک فقره جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا کے بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے ثم منزلك الى الارض سو یہ ان یہودیوں کی طرح تحریف ہے جن پر بوجہ تحریف کے لعنت ہو چکی ہے کیونکہ اس صورت میں اس ا آل عمران : ۵۶