اَلْحق مباحثہ دہلی — Page xxv
<mark>ہونے</mark> والا ہے اور شکست کھ<mark>ان</mark>ے والا کون ہے؟ جو آسم<mark>ان</mark> پر قرار پا گیاہے وہی زمین پر ہو گا گو دیر سے سہی‘‘ ۱ (مکتوبات احمد جلد اول مکتوب نمبر۱۲ صفحہ ۳۲۳ ایڈیشن ۲۰۰۸ء) پھر لاہور کی گفتگو سے متعلق لکھا:۔’’اصل بات تو اس قدر تھی کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے مولوی صاحب ممدوح کی خدمت میں لکھا تھا کہ مولوی عبدالرح<mark>من</mark> اس جگہ آئے ہوئے ہیں۔ہم نے اُن کو دو تین روز کے لئے ٹھہرا لیا ہے تا اُن کے روبرو ہم بعض شبہات اپنے آپ سے دُور کرا لیں اور یہ بھی لکھا کہ ہم اس مجلس میں مولوی محمد حسین صاحب کو بھی بُلالیں گے۔چونکہ مولوی صاحب موصوف حافظ صاحب کے اصرار کی وجہ سے لاہورمیں پہنچے اور <mark>من</mark>شی امیر الدین صاحب کے مک<mark>ان</mark> پر اُترے اور اس تقریب پر حافظ صاحب نے اپنی طرف سے آپ کو بھی بُلا لیا۔تب مولوی عبدالرح<mark>من</mark> صاحب تو عین تذکرہ میں اُٹھ کر چلے گئے اور جن صاحبوں نے آپ کوبلایا تھا <mark>ان</mark>ہوں نے مولوی صاحب کے آگے بی<mark>ان</mark> کیا کہ ہمیں مولوی محمد حسین صاحب کا طریقِ بحث پسند نہیں آیا۔یہ سلسلہ تو دو برس تک بھی ختم نہیں ہو گا۔آپ خود ہمارے سوالات کا جواب دیجئے۔ہم مولوی محمد حسین صاحب کے آنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ <mark>ان</mark>ہوں نے آپ کو بلایا ہے۔تب جو کچھ <mark>ان</mark> لوگوں نے پوچھا مولوی صاحب موصوف نے بخوبی اُن کی تسلّی کردی۔‘‘ ۲ ’’پھر ب<mark>ان</mark>شراح صدر حافظ محمد یوسف صاحب اور قریشی عبدالحق صاحب و <mark>من</mark>شی الٰہی بخش صاحب و <mark>من</mark>شی امیر دین صاحب اور مرزا ام<mark>ان</mark> اﷲ صاحب نے کہا۔ہماری تسلّی ہو گئی اور شکریہ ادا کیا۔کہا بلا حرج تشریف لے جایئے۔جب بل<mark>ان</mark>ے والوں نے کہا ہم مولوی محمد حسین صاحب کو بل<mark>ان</mark>ا نہیں چاہتے ہماری تسلّی ہو گئی تو آپ سے کیوں اجازت م<mark>ان</mark>گتے۔‘‘(ملخصًا) اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ بحث ہونی چاہئے جیسا کہ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں تو یہ عاجز بسر و چشم حاضر ہے مگر صرف تحریری بحث ہونی چاہئے۔اور