اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 185
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۸۵ الحق مباحثہ دہلی کو بھی ان میں داخل کر دیا جائے ورنہ آپ کبھی اور کسی صورت میں قطعیت کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتے ۵۵ اور کوئی تقوی شعار علماء میں سے اس قطعیت کے دعوے میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوگا اور کیونکر شریک ہو۔ شریک تو تب ہو کہ بہت سے بزرگوں اور صحابہ کو جاہل قرار دیوے اور نبی صلعم پر بھی اعتراض کرے۔سُبحانه هذا بهتان عظیم۔ اب میں آپ پر واضح کرنا چاہتا ہے پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کیا اکابر مفسرین نے اس آپی کی ائی ی کو حضرت عیسی کے نزول کیلئے قطعية الدلالت قرار دیا ہے یا کچھ اور ہی معنے لکھے ہیں۔ سو واضح ہو کہ کشاف صفحہ ۱۹۹ میں لیؤمنن به بہ کی آیت کے نیچے یہ تفسیر ہے یہ تفسیر ہے جملة قسمية واقعة صفة لموصوف محذوف تقدیره وان من اهل الكتب ۔ احد الا ليؤمنن قبل موته بعیسی و بانه عبدالله و رسوله يعني اذا عاين قبل ان تزهق روحه حين لا ينفعه ایمانه لانقطاع وقت التكليف وعن شهر بن حوشب قال لى الحجاج أية ما قرأتها الا تخالج في نفسي شيء منها يعني هذه الآية ۔۔۔۔۔۔ انى أوتى بالاسير من اليهود والنصارى فأضرب عنقه فلا اسمع منه ذالک فقلت ان اليهودى اذا حضره الموت ضربت الملائكة دبره ووجهه وقالوا يا عدو الله اتاک عیسی نبیا فکذبت به فیقول آمنت انه عبد نبی و تقول للنصرانی اتاک عیسى نبيا فزعمت أنه الله أو ابن الله فيؤمن أنه عبدالله و رسوله وعن ابن عباس انه فسره كذلك فقال له عكرمة فان أتاه رجل فضرب عنقه۔ قال لا تخرج نفسه حتى يحرك بها شفتيه قال وان خرمن فوق بيت أو احترق أو أكله سبع قال يتكلم بها في الهواء ولا تخرج روحه حتى يؤمن به و تدل عليه قراءة أبى الا ليومنن قبل موتهم بضم النون على معنى وان منهم احد الا سيؤمنون به قبل موتهم ۔۔۔۔۔۔۔ وقيل الضميران لعيسى بمعنى وان منهم احد الاليومنن بعیسی قبل موت عيسی و هم اهل الكتب الذين يكونون في زمان نزوله - روى أنه ينزل ۔۔۔۔۔۔ في آخر الزمان فلا يبقى أحد من اهل الكتب الا يومن به حتى تكون الملة واحدة وهي ملة الاسلام ۔۔۔۔۔ و قيل الضمير في به يرجع الى الله تعالى وقيل الى محمد صلی الله علیه و سلم ۔ ترجمه یعنی لیؤمنن به جمله قسمیہ ہے اور آیت موصوف محذوف کے لئے صفت ہے اور محذوف کو ملانے کے ساتھ اصل عبارت یوں ہے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے عیسی پر ایمان نہ لا وے اور نیز اس بات پر ایمان لاوے کہ وہ اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہے یعنی جس وقت جان کندن النساء: ۱۶۰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تفسیر الکشاف کی عبارت تلخیصاً یہاں درج فرمائی ہے۔ ( ناشر )