اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 173
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۷۳ الحق مباحثہ دہلی میں غیر صحیح جانتے ہیں اس کو بمقابلہ خصم صحیح بناویں یہ تو مناظرہ نہ ہوا محض مجادلہ ٹھہرا۔ قوله ۔ پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال مراد ہے۔ اقول قرآن مجید میں فلنولینک ہے نہ ولنولینک جیسا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں یہاں ارادہ حال غلط محض ہے بلکہ یہاں خالص مستقبل مراد ہے بچند وجوہ۔ اول یہ کہ بیضاوی میں مرقوم ہے فــــــــول وجهک اصرف و جهک شطر المسجد الحرام نحوه - عبدالحکیم اصرف و جھک کے تحت میں لکھتے ہیں ولم يجعله من المتعدى الى المفعولين بان يكون شطر مفعوله الثاني لان ترتبه بالفاء وكونه انجازا للوعد بان الله تعالى يجعل النبى مستقبلا القبلة او قريبا من سمتها بان يامر بالصلوة اليها يناسبه ان يكون النبي مامورا بصرف الوجه اليها لا بان يجعل نفسه مستقبلا اياها او قريبا من جهتها - انتهى اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے قول فلنولینک میں وعدہ فرمایا۔ اور فول وجھک کے ساتھ اس کا انجاز کیا۔ دوم یہ کہ اگر یہاں حال مراد لیا جائے تو فلنولینک کے یہ معنے ہوں گے پس البتہ پھیرتے ہیں ہم تجھ کو اور پھیرنے سے یہ تو مراد ہی نہیں کہ ہم تجھ کو ہاتھ پکڑ کے قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم تجھ کو قبلہ کی طرف پھیرنے کا حکم کرتے ہیں۔ اس تقدیر پر قول اللہ تعالیٰ کا فول وجهک زاید ولا طائل ہوگا۔ سوم یہ کہ شاہ ولی اللہ صاحب و شاہ رفیع الدین صاحب و شاہ عبد القادر صاحب نے ترجمہ اس لفظ کا بمعنے مستقبل کیا ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ پس البتہ متوجہ گردانیم ترابان قبله که خوشنود شوی لفظ شاه ری ظ شاہ رفیع الدین صاحب کا بہ احب کا یہ ہے۔ پس البتہ پھیریں گے ہم تجھ کو اس قبلہ کو کہ پسند کرے اس کو ۔ لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے۔ سوالبتہ پھیریں گے تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہے۔ قولہ اور ایسا ہی یہ آیت وَانْظُرُ إِلَى الْهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا نُحَرِقَنَّهُ اقول اراده حال اس آیت میں غلط ہے بدو وجہ اول یہ کہ آیت میں وعید ہے اور جس چیز کی وعید کی جاتی ہے وہ اس کے بعد متحقق ہوتی ہے۔ پس استقبال یہاں متعین ہوا۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ سے معنے استقبال واضح ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ البتہ بسوزانیم آنرا پس پراگندہ سازیم آنرا۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ ابھی جلاویں گے ہم اس کو پھر اڑاویں گے ہم اس کو ۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے ہم اس کو جلاویں گے پھر بکھیر دیں گے۔ ان دونوں آیتوں میں جو مرزا صاحب نے حال کے معنی سمجھے تو منشاء غلط یہ معلوم ہوتا ہے کہ استقبال دو طرح کا ہوتا ہے ایک استقبال قریب دوسرا استقبال بعید مرزا صاحب استقبال قریب کو قرب کی وجہ سے حال سمجھ گئے ہیں وهذا بعيد من یہ۔ البقرة : ۱۴۵ ۲ طه: ۹۸ ۴۳