اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 157

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۵۷ الحق مباحثہ دہلی وفي هذه الآية نــص فـي انـه عليه الصلوة والسلام سينزل الى الارض - بیضاوی میں ۲۷ ہے۔ وبه استدل على انه سينزل فانه رفع قبل ان اکتھل ۔جلالین میں ہے یفید نزوله قبل الساعة لانه رفع قبل الكهولة معالم میں ہے وقيل للحسين بن الفضل هل تجدنزول عيسى في القرآن قال نعم قوله و كهلا وهو لم يكتهل في الدنيا وانما معناه وكهلا بعد نزول من السماء انتهی ۔ یہ آیت اگر چہ فی نفسها قطعية الدلالة حیات مسیح پر نہیں ہے مگر بانضمام آیہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہ کے قطعی الدلالة ہو جاتی ہے اور اس بنا پر ایک حسن اس آیت میں یہ ہوتا ہے کہ جیسا کلام فی المهد ایک آیت اور معجزہ ہے ایسا ہی كلام في الكهولة معجزہ ٹھہرتا ہے کیونکہ اس زمان دراز تک جسم کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا اور اس میں کچھ تغیر نہ آنا خارق عادت ہے ورنہ کلام فى الكهولة تو سب ہی کہوں کیا کرتے ہیں حضرت مسیح کا اس میں کیا کمال ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے فہرست نعم جلیلہ میں ذکر فرمایا ہے۔ دلیل سوم ۔ سورہ نساء میں ہے وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا ۔ بَلْ زَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۖ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا " یہ آیت بھی فی نفسہا اگر چہ قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے مگر ظاہر اس سے رفع الروح چه مع الجسد ہے کیونکہ ماقتلوہ اول و ثانی اور ما صلبوہ کے ضمیر منصوب کا مرجع تو قطعاً روح مع الجسد ہے پس یہ امر دال ہے اس پر کہ مرجع رفعہ کے ضمیر منصوب کا بھی روح مع الجسد ہے علی الخصوص جب آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِہ اس کے ساتھ ضم کی جاوے تو یہ بھی قطعی الدلالت ہو جاتی ہے۔ دلیل چہارم۔ سورہ زخرف میں ہے وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیم کے یہ آیت بھی فی نفسہا اگر چہ قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے مگر ظاہر یہی ہے کیونکہ ارجاع ضمیر انه کا طرف قرآن مجید کے بالکل خلاف سیاق و سباق ہے پس ضرور مرجع عیسی علیہ السلام ہوئے اب یہاں تین احتمال ہیں یا حدوث مقدر مانا جاوے یا ارادہ معجزات یا نزول اول باطل ہے اس لئے کہ ہمارے آنحضرت صلعم کا حدوث : رت صلعم کا حدوث علامت قریبہ قیامت کے ہے جیسا کہ حدیث صحیح یا میں وارد ہے بعثت انا والساعة كهاتين پس حضرت عیسی علیہ السلام کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں اور ایسا ہی احتمال دوم بھی باطل ہے کیونکہ معجزات سب دلالت علی قدرۃ اللہ تعالٰی میں برابر ہیں ۔ تخصیص معجزات عیسویہ کی کیا ہے پس متعین ہوا کہ مراد نزول ہے خاص کر جب کہ آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ جو قطعی الدلالة ہے اور احادیث صحیحہ بخاری و مسلم اس کی تفسیر واقع ہو گئی ہیں تو اس حیثیت سے یہ آیت بھی قطعی الدلالت حیات مسیح پر ہوگئی دلیل پنجم آیت وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ا النساء : ١٦٠ النساء : ۱۵۹۱۵۸ ۳ الزخرف: ۶۲ الحشر : ۸