اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 139
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۳۹ الى الله أشـكـو قـارعــات تصيبني و مـــن مــفـتــريــر مــى بـــانـواع تهمة | ۲۵ وتلبيس مُغتاب ومستهزء سب وعلماء السُّوء يدعون اسوة ٢٦ على فرط جهل بالحقائق والكتب عمائم والجبات والقمص واللحى ۲۷ بها فخرهم لكنها الجهل لا تخبى يبكم سمع اليلمحى حديثهم ۲۸ ورؤيتهم تقذى بها عين ذي لب فوالله اني ما هجرت خلاطهم ۲۹ الغيـر جـفـاء ليس من شيمة النُّحب وجهلهم المزرى بعلمي ولومهم | ۳۰ ورغبتهم فيما يناسب بالوغب يــلــومــونـــي اني اعاف لقائهم ۳۱ وكيف ألاقى جاهلا ليس من حزبی فكم بين ذي لب اديب وجاهل ۳۲ وشتان بين الماجد الحر والوشب من الجهل ان تلقی و تکرم جاهلا ۳۳ للحيته اوجبة او عظم السب عذیرى من الايام من جوراهلها | ۳۴ اقاموا جبال الفادحات على قلبي ۲۴۔ زمانہ کے مصائب سے جنہوں نے میرے وسیع سینہ کو بھی تنگ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں شکوہ کرتا ہوں۔ ۲۵ ۔ اور اس مفتری سے جو طرح طرح کی تہمتیں لگاتا ہے اور غیبت کر نیوالے کے دھوکے اور ٹھٹھہ باز گالی ۲۴ من الدهر قد ضاقت بها سَعَة اللَّحْبِ ﴿9﴾ دینے والے سے۔ ۲۶۔ اور برے عالموں سے جو باوجود حقائق و معارف و ائق و معارف و علوم کے نہ جاننے کے اپنے تئیں نمونے سداتے ہیں۔ ۲۷۔ آجا کے انکا مایہ ناز عمامے ۔ جسے قمیصیں اور ڈاڑھیاں ہیں ۔ مگر ان سے جہل کیونکر چھپ جائے۔ ۲۸ سمجھدار ان کی گفتگو کو سننا گوارا نہیں کرتا۔ اور دانشمندان کے دیکھنے سے گھن کرتا ہے۔ ۲۹۔ بخدا میں نے جوان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تو ان کی جفا کے باعث جو شریفوں کا شیوہ نہیں ۔ ۳۰۔ اور ان کے جہل کے باعث جس کی وجہ سے وہ میرے علم کو حقیر جانتے اور ان کی فرومائیگی اور رذیلوں کیسی عادات سے مانوس ہونے کے باعث ۔ ۳۱۔ وہ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ میں انہیں دیکھنا روا نہیں رکھتا ۔ سچ ہے۔ میں کیونکر جاہل سے ملوں جو میری جماعت سے نہیں۔ ۳۲ دانا ، ادیب اور جاہل ، نجیب و شریف اور کمینے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ۳۳ کسی جاہل سے ملنا اور اسکی بڑی پگڑی اور لمبی ڈاڑھی اور جبہ کے باعث اس کی عزت کرنا بھی جاہل ہی کا کام ہے۔ ۳۴۔ زمانہ اور اہل زمانہ کے جور و جفا سے جو میں شکوہ کروں تو مجھے معذور رکھنا چاہیئے کیونکہ انہوں نے میرے دل پر مصائب کے پہاڑ رکھ دیئے ہیں۔ و من علماء السوء ”من“ سہو کا تب سے رہ گیا معلوم ہوتا ہے۔ (شمس)