اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 102

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۰۲ مباحثہ لدھیانہ ۱۰۰ قوله محقق مسلمان حنفی ہو یا شافعی مقلد ہو یا غیر مقلد صحیح روایات حدیثیہ کا معیار قرآن کریم کو نہیں ٹھہراتا۔ اقول ۔ اس بات کا جواب ابھی مفصل گزر چکا ہے کہ علماء مذاہب ثلاثہ نے احادحدیث کو گو وہ بخاری کی ہوں یا مسلم کی اس شرط سے قبول کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے معارض اور مخالف نہ ہوں تلویح کی عبارت ابھی میں نے سنائی آپ کو یاد ہو گی کہ جس حالت میں ائمہ ثلاثہ ان حدیثوں سے جو احاد ہیں اور مخالف قرآن ہیں خدمت نہیں لیتے اور معطل کی طرح چھوڑ دیتے ہیں تو اگر وہ قرآن کریم کو معیار قرار نہیں دیتے تو حدیثوں کو اس کی مخالف پا کر کیوں چھوڑتے ہیں۔ کیا معیار ماننا کچھ اور طور سے ہوتا ہے؟ جب کہ ان لوگوں نے یہ اصول ہی ٹھہرا لیا ہے کہ خبر واحد بحالت مخالفت قرآن ہرگز قبول کے لائق نہیں گو اس کا راوی مسلم ہو یا بخاری ہو تو کیا اب تک انہوں نے قرآن کریم کو معیار قبول نہیں کیا؟ اتقوا الله ولا تغلوا ! قوله - امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے لا اعرف انه روى عن النبي صلى الله عليه و سلم حديثـان بـاسنادين صحيحين متضادان فمن كان عنده فليأت به لالف بينهما یعنی امام الائمہ ابن خزیمہ سے منقول ہے کہ میں ایسی دو حدیثوں کو شناخت نہیں کرتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کی گئی ہوں اور پھر متضاد ہوں اگر کسی کے پاس ایسی حدیثیں ہوں تو میرے پاس لاوے میں ان میں تالیف کر دوں گا۔ اقول ۔ امام ابن خزیمہ تو فوت ہو گئے اب ان کے دعوی کی نسبت کچھ کلام کرنا بے فائدہ ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اپنے مضمون کے سنانے کے وقت بڑے جوش میں آ کر فرمایا تھا کہ ابن خزیمہ تو امام وقت تھے میں خود دعوی کرتا ہوں کہ دو متعارض حدیثوں میں جو دونو صحیح الاسناد تسلیم کی گئی ہوں توفیق و تالیف دے سکتا ہوں اور ابھی دے سکتا ہوں؟ آپکا یہ دعویٰ ہر چند اس وقت ہی فضول سمجھا گیا تھا لیکن برعایت شرائط قرار یافتہ مناظرہ اس وقت آپ کی تقریر میں بولنا نا جائز اور ممنوع تھا۔ چونکہ آپ کی خودستائی حد سے گذر گئی ہے اور عجز و نیاز اور عبودیت کا کوئی خانہ نظر نہیں آتا اور ہر وقت انا اعلم کا جوش آپکے نفس میں پایا جاتا ہے اسلئے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی دعوٹی کے رو سے آپ کے کمالات کی آزمائش کروں جس آزمائش کے ضمن میں میری اصل بحث بھی لوگوں پر ظاہر ہو جائے ۔ میں بالطبع اس سے کا رہ ہوں کہ کسی سے خواہ نخواہ آویزش کروں لیکن چونکہ آپ دعوی کر بیٹھے ہیں اور دوسروں کو تحقیر اور ذلت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ آپکے خیال میں امام اعظم