اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 97

۹۵ مباحثہ لدھیانہ ۹۷ روحانی خزائن جلد ۴ ممنوع والاجماع على مزيتهما في انفسهما لا يفيد لان جلالة شانهما وتلقى الامة بكتابهما لوسلّم لا يستلزم ذالك القطع والعلم فان القدر المسلم المتلقى بين الامة ليس الا ان رجال مروياتهما جامعة للشروط التي اشترطها الجمهور بقبول روايتهم وهذا لا يفيد الا الظن واما ان مروياتهما ثابتة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فلا اجماع علیه اصلا كيف ولا اجماع على صحته جميع ما في كتابهما لان رواتهما منهم قدريون وغيرهم من اهل البدع و قبول رواية اهل البدع مختلف فيه فاين الاجماع على صحة مرويات القدرية غاية ما يلزم ان احاديثها اصح الصحيح يعنى انها مشتملة على الشروط المعتبرة عند الجمهور على الكمال وهذا لا يفيد الا الظن القوى هذا هو الحق المتبع ولنعم ما قال الشيخ ابن الهمام ان قولهم بتقديم مروياتهم على مرويات الائمة الآخرين قول لا يعتدبه ولا يقتدى بل هو من محكماتهم الصرفة كيف لاوان الاصحة من تلقاء عدالة الرواة وقوة ضبطهم واذا كان رواة غيرهم عادلين ضابطين فهما وغيرهما على السواء لا سبيل للتحكم بمزيتها على غيرهما الاتحكما والتحكم لا يتلفت اليه فافهم - خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ صاحب مسلم الثبوت جو بحر العلوم سے ملقب ہے فرماتا ہے کہ ابن الصلاح اور ایک طائفہ اہل حدیث نے یہ گمان کیا ہے کہ روایت شیخین محمد ابن اسماعیل البخاری اور مسلم کی جو صحیحین میں ہے علم نظری کی مفید ہے کہ ہے علم نظری کی مفید ہے کیونکہ اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم کو ان کے غیر پر فضیلت ہے اور امت ان دونوں کو قبول کر چکی ہے اور اجماع قطعی ہے۔ پس واضح ہو کہ ان دونوں کتابوں کی صحت پر اجماع ہونا بہتان ہے۔ ہر ایک شخص اپنے وجدان کی طرف رجوع کر کے ضروری طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ ان دونوں کی مجرد روایت موجب یقین نہیں یعنی کوئی بات ایسی نہیں جس سے خواہ نخواہ ان کی روایت موجب یقین سمجھی جائے بلکہ حال اس کے مخالف ہے بقيه حاشيه ہے بناء على هذا جو شخص اپنی بیوی کو ان لفظوں سے مطلقہ قرار دے کہ اگر بخاری میں یہ حدیث ہے تو میری عورت پر طلاق ہے تو اگر چہ یقینی طور پر طلاق نہ پڑے لیکن کچھ شک نہیں کہ ظن غالب کے طور پر ضرور طلاق پڑ گئی ۔ کیونکہ ہم مامور ہیں کہ مومن پر حسن ظن کریں اور اس کی شہادت کو ساقط الاعتبار نہ مجھیں ۔ فتدبر ۔ ایڈیٹر ۹۵