اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 87

روحانی خزائن جلد ۴ ۸۷ مباحثہ لدھیانہ اور امور ہیں جن کا نام میں احادیث مجردہ رکھتا ہوں ۔ سنن متوارثہ کے نام سی انہیں موسوم نہیں کرتا اور وہی ۸۵ ہیں جو سلسلۂ تعامل سے خارج ہیں اور مسلمانوں کو تعامل کی حدیثوں کی طرح ان کی کوئی بھی ضرورت نہیں اگر اسی مجلس میں بعض قصص بخاری یا مسلم کے حاضر الوقت مسلمانوں سے دریافت کی جائیں تو ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے نکلیں گے جن کو وہ تمام حالات معلوم ہوں بلکہ بجز کسی ایسے شخص کے جو اپنی معلومات کے بڑھانے کی غرض سے دن رات احادیث کا شغل رکھتا ہے اور کوئی نہیں ہے جو بیان کر سکے لیکن ہر یک مسلمان ان تمام احکام اور فرائض کو جو ہم پہلے حصہ میں داخل کرتے ہیں عملی طور پر یا د رکھتا ہے کیونکہ وہ مسلمان بننے کی حالت میں دائمی طور پر اس کو کرنی پڑتی ہیں یا کبھی کبھی کرنے کیلئے وہ مجبور کیا جاتا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ تعامل کے متعلق جو احکام ہیں وہ سب ثبوت کے لحاظ سے ایک درجہ پر نہیں جن امور کی مواظبت اور مداومت بلافتو رو اختلاف چلی آئی ہے وہ اول درجہ پر ہیں اور جس قدرا حکام اپنے ساتھ اختلاف لے کر تعامل کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں وہ بحسب اختلاف اس پہلے نمبر سے کم درجہ پر ہیں مثلاً رفع یدین یا عدم رفع یدین جو دو طور کا تعامل چلا آتا ہے ان دونوں طوروں سے جو تعامل قرن اول سے آج تک کثرت سے پایا جاتا ہے اس کا درجہ زیادہ ہوگا اور با اینہمہ دوسرے کو بدعت نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ ان دونوں عملوں کی تطبیق کی غرض سے یہ خیال ہو گا کہ باوجود مسلسل تعامل کے پھر اس اختلاف کا پایا جانا اس بات پر دلیل ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفت قراءت کی طرح طرق ادائے صلوٰۃ میں رفع تکلیف امت کیلئے وسعت دیدی ہوگی اور اس اختلاف کو خود دانستہ رخصت میں داخل کر دیا ہوگا تا امت پر حرج نہ ہو۔ غرض اس میں کون شک کر سکتا ہے کہ سلسلہ تعامل سے احادیث نبویہ کو قوت پہنچتی ہے اور سنت متوارثہ متعاملہ کا ان کو لقب ملتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جو نمبر اول پر سلسلہ تعامل احکام ہے وہ اختلاف سے بکلی محفوظ ہے۔ کوئی مسلمان اس بات میں اختلاف نہیں رکھتا کہ فریضہ صبح کی دورکعت ہیں اور مغرب کی تین اور ظہر اور عصر اور عشاء کی چار چار اور کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ ہر یک نماز میں بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو قیام اور قعود اور سجود اور رکوع ضروری ہے اور سلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا چاہئے ایسا ہی خطبہ جمعہ اور عیدین اور عبادت اور اعتکاف عشرہ اخیرہ رمضان اور حج اور زکوۃ ایسے امور ہیں جو بہ برکت تعامل اپنے نفس وجود میں محفوظ چلی آتی ہیں اور ہمارا یہ دعوی نہیں کہ ہر ایک حکم نبوی اور تعلیم مصطفوی یکساں طور پر سلسلہ میں آگئی ہے ہاں جو کامل طور پر آ گیا ہے وہ کامل طور پر ثبوت کا نور اپنے ساتھ رکھتا ہے ورنہ جس قدر یا جس مرتبہ تک کوئی حکم سلسلہ تعامل سے فیض یاب ہوا ہے اسی قدر ثبوت اور یقین کے رنگ سے رنگین ہو گیا ہے۔