البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 630

البلاغ — Page 431

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۳۱ البلاغ فریاد درد کی کتابیں پادری صاحبوں نے تالیف کر کے اس ملک میں شائع کی ہیں اور اسی قسم کے مضمون ۶۰ ان کے اخباروں میں بھی ہمیشہ شائع ہوتے رہتے ہیں اور یہ کارروائی نہ ایک دو روز کی بلکہ ساٹھ سال کی ہے مگر پھر بھی وہ تحریریں گو کیسی ہی فتنہ انگیز ہوں لیکن یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسباب پیدا ہو گئے ہیں کہ جو لوگ وحشیانہ طور پر ان تحریروں سے مشتعل ہو سکتے ہیں وہ اکثر نا خواندہ ہیں اور جو لوگ ان تحریروں کو پڑھتے اور دیکھتے ہیں وہ اکثر مہذب ہیں جو تحریر کا تحریر سے ہی جواب دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو صرف قیاسی نہیں بلکہ ساٹھ سال کے متواتر تجربہ سے ثابت ہو چکی ہے اور اگر ایسی تحریروں سے کوئی مفسدہ برپا ہو سکتا تو سب سے پہلے پادری عمادالدین کی تحریریں یہ زہریلا اثر اپنے اندر رکھتی تھیں جن کی نسبت ایک محقق انگریز نے بھی شہادت دی ہے کہ اگر ۱۸۵۷ء کا غدر پھر ہونا ممکن ہے تو اس کا سبب پادری عماد الدین کی تحریریں ہوں گی مگر میں کہتا ہوں کہ یہ خیال بھی خام ہے کیونکہ باوجود یکہ عمادالدین کی کتابوں کو شائع ہوئے قریباً تیس برس کا عرصہ گزر گیا مگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی مفسدانہ حرکت صادر نہیں ہوئی اور کیونکر صادر ہو تمام مسلمان کیا ادنی اور کیا اعلیٰ خوب سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ کو ان تحریرات سے کچھ تعلق نہیں ۔ ہر ایک شخص مذہبی آزادی کی وجہ سے اپنے اندرونی خواص دکھلا رہا ہے اور گورنمنٹ ں نے اپنی رعایا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بغیر کسی کی طرفداری کے نہایت عدل اور انصاف اور خسروانہ رحم اور شفقت سے برٹش انڈیا میں سلطنت کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان کسی غیر مذہب کی ایسی سخت تحریر پاتے ہیں یا اس قسم کا رسالہ دل آزار اُن کی نظر سے گذرتا ہے تو وہ ایسے رسالہ کو محض کسی ایک شخص کے ذاتی خبث اور عناد یا حمق اور جہل مرکب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور معاذ اللہ کسی کو ہرگز یہ خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ کا اس میں کچھ دخل ہے۔ پنجاب کے مسلمان برابر ساٹھ سال سے اس بات کا تجربہ کر رہے ہیں کہ اس گورنمنٹ عالیہ کے اصول نہایت درجہ کے انصاف پرور اور عدل گستری پر مبنی ہیں اور ہرگز ممکن نہیں کہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اُن کے دل میں گزر سکے کہ دیسی پادری اپنی سخت گوئی میں گورنمنٹ کی نظر میں معافی کے لائق ہیں۔