البلاغ — Page 420
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۲۰ البلاغ فریاد درد ۴۹ عام جلسوں میں سخت گوئی پر کمر باندھ لی اور اُس نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ گویا جس قدر پنجاب اور ہندوستان میں آٹھ سو برس سے ہندو خاندان سے مسلمان ہوئے ہیں اُن سب کی اولاد کو پھر ہندو بنایا جائے ۔ شخص اس قدر سخت گوانسان تھا کہ بیچارے سناتن دھرم والے بھی اس کی زبان سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اگر جلد تر موت مقدر اس کو چپ نہ کرا دیتی تو معلوم نہیں کہ اُس کی تحریروں اور تقریروں سے کیا کیا ملک میں فتنے پیدا ہوتے۔ میں نے سنا ہے کہ بسا اوقات عین اس کے دیا کھان کے وقت بعض ہند و صاحبوں نے بباعث سخت اشتعال کے اس کی طرف پتھر پھینکے۔ پس جبکہ آریوں کی طرف سے اس حد تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ بازاروں میں کوچوں میں گلیوں میں عام جلسوں میں اسلام کی توہین کی جاتی تھی اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی مخالطت سے نفرت دلائی گئی تھی اور بغض اور تو ہین اور سخت گوئی کا سبق دیا جاتا تھا۔ تو اس صورت میں بجز ایسے نام کے مسلمانوں کے جو دین سے کوئی حقیقی تعلق نہ رکھتے ہوں ہر ایک مسلمان کو اس نئے پنتھ کی شوخی سے درد پہنچنا ایک لازمی امر تھا اور اسی وجہ سے اور اسی باعث سے کتاب براہین احمد یہ بھی لکھی گئی تھی۔ اب ہم انجمن حمایت اسلام اور اس کے حامیوں کو کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے اسلام کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھ کر اس قدر سچائی کا خون کیا۔ ہمارا تمام شکوہ خدا تعالیٰ کی جناب میں ہے۔ یہ لوگ اسلام کا دعویٰ کر کے اسلام کی حمایت کا دعویٰ کر کے کسی بد دیانتی سے زبان کھول رہے ہیں اور ہمیں کب امید ہے کہ اب بھی وہ نادم ہو کر اور اپنی غلطی کا اقرار کر کے باز آ جائیں گے مگر خدا جو ہمارے دل اور ان کے دلوں کو دیکھ رہا ہے وہ بیشک اپنی سنت کے موافق ان میں اور ہم میں فیصلہ کرے گا ۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ پھر ایک اعتراض انجمن حمایت اسلام لاہور کے حامیوں کا یہ ہے کہ اس انجمن کے ممبر اور ہمدرد تو ہزار ہا مسلمان ہیں اور اس کی وقعت اور ذمہ واری مسلمہ ہے مگر مرزا صاحب کو اس سے زیادہ ایک ذرہ حیثیت حاصل نہیں کہ وہ ایک ملا یا مولوی یا مناظر یا مجادل ہیں ا الاعراف : ۹۰