البلاغ — Page 413
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۱۳ البلاغ فریاد درد ان کو خبر تک نہیں کہ مسلمانوں نے عیسائیوں کی ان کتابوں اور رسائل کا کیا جواب دیا ہے مگر ۴۲ شاذ نادر کوئی ہندو ایسا ہوگا جس نے عیسائیوں کی ایسی گندی کتابیں نہ دیکھی ہوں جو اسلام کے رڈ میں لکھی گئیں۔ ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص ہندوؤں میں سے کچھ اردو سمجھ سکتا ہے یا انگریزی خوان ہے اس کے کانوں تک بہت کچھ عیسائیوں کی کتابوں کی بد بو پہنچی ہوگی اور ہندوؤں کا اسلام کے مقابل پر بد زبانی کے ساتھ منہ کھولنا در حقیقت اسی وجہ سے ہوا ہے کہ عیسائیوں کی زہریلی تحریرات کی گندی نالیوں سے بہت کچھ خراب موادان کے خون میں بھی مل گئے ہیں اور ان کے افتراؤں کو ان لوگوں نے سچ سمجھ لیا اور اس طرح پر آریہ لوگ بھی عناد میں پختہ ہو گئے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ اس کثرت سے اشاعت اسلامی کتابوں کی کہاں ہوئی۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اب تک کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں ! اگر کسی گوشہ نشین ملا کو یہ خیال بھی آیا کہ کسی رسالہ کار دیکھیں تو مر مر کر دو تین سور و پیدا کٹھا کیا اور تشقت خاطر کے ساتھ کچھ لکھ کر چھ سات سو کاپی کسی مختصر کتاب کی چھپوا دی جس کے چھپنے کی عام طور پر قوم کو بھی خبر نہ ہوئی۔ تو اب کیا اس مختصر اور نہایت حقیر کارروائی کے ساتھ یہ خیال کیا جائے کہ جو کچھ کرنا تھا کیا گیا اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس عرصہ میں صرف چند کتابیں مسلمانوں کی طرف سے نکلی ہیں جن کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے اسلامی نکتہ چینی کی کتابوں اور دو ورقہ رسائل کو اس کثرت سے شائع کیا ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے ہر ایک مسلمان کے حصہ میں ہزار ہزار کتاب آ سکتی ہے۔ اب نہایت درجہ کا دجال اور دشمن اسلام وہ شخص ہوگا جو اس بد یہی واقعہ سے انکار کرے۔ پھر جبکہ اشہ رے۔ پھر جبکہ اشاعت کی تعداد کے رو سے اسلامی مدافعت کو پادریوں کے حملہ سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایک ذرہ کو ایک پہاڑ کے ساتھ ہو سکتی ہے تو کیا ابھی تک یہ کہنا بجا ہے کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا اور جس قد را شاعت