البلاغ — Page 406
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۰۶ البلاغ فریاد درد ۳۸ صاحب جن کی خدمت بابرکت میں یہ مضمون بھیجا جائے وہ دو ہفتہ کے اندر ہی اپنی رائے زریں سے مجھے خوش وقت فرمائیں گے۔ اس مقام تک ہم لکھ چکے تھے کہ پرچہ پیسہ اخبار مطبوعه ۱۴ مئی ۱۸۹۸ء ہماری نظر سے گذرا جس میں میری نسبت اور میری رائے کی نسبت بتائید میموریل انجمن حمایت اسلام کے چند ایسی باتیں خلاف واقعہ لکھی ہیں۔ جن کی طرز تحریرہ سے گورنمنٹ یا پبلک کے دھو کہ کھا جانے کا احتمال ہے۔ لہذا اس غلط بیانی کا گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ظاہر کر دینا قرین مصلحت سمجھ کر چند سطریں ان بہتانوں کے دور کرنے کے لئے ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری دقیقہ رس گورنمنٹ ضرور اس پر توجہ فرمائے گی اور وہ اعتراضات معہ جوابات یہ ہیں۔ (۱) پہلے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ لوکل انجمن حمایت اسلام کا مطلب رسالہ امہات المومنین کی نسبت میموریل بھیجنے سے یہ تھا کہ یہ کتاب جو سخت دل دکھانے والے الفاظ سے پُر ہے اور ایڈیٹر پیسہ اخبار اور آبزرور نے اپنے پرچہ میں مجھ پر یہ الزام بھی لگانا چاہا ہے کہ گویا وہ تفرقہ اور عناد جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہوا اس کی تخم ریزی میری طرف سے ہی ہوئی کہ میں نے لیکھرام کے مرنے کی پیشگوئی کی اور اس کی موت پر ہندوؤں کو جوش آیا اور بدگمانیاں پیدا ہوئیں۔ لیکن اس اعتراض سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ان ایڈیٹروں کو بعض مخفی تحریکات کی وجہ سے مجھ سے وہ بغض اور حسد ہے جس کو وہ دینی امور میں بھی ضبط نہیں کر سکے اور آخر نفسانی جوش میں آکر اسلامی حمایت اور حقوق کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ میں نے بار بار اپنی کتابوں میں مفصل لکھا ہے اور خود لیکھر ام نے بھی اپنی تالیفات میں اس بات کو قبول کیا ہے کہ یہ پیشگوئی جو سکھرام کی نسبت کی گئی تھی اس کا باعث خود لیکھر ام ہی تھا۔ جن دنوں میں لیکھرام نے اسلام کی نسبت بد زبانی پر کمر باندھ رکھی تھی اور بات بات میں گالی اس کے منہ میں تھی۔ ان دنوں میں اس نے جوش میں آکر ایک یہ کارروائی بھی کی تھی کہ مجھ سے بحث کرنے کے لئے قادیاں میں آ کر ایک مہینے کے قریب رہا۔ میں اس سے بحث کرنے کے لئے اس کے ضلع اور گاؤں میں نہیں گیا اور نہ میں نے کبھی ابتداءا حاشيه