البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 630

البلاغ — Page 388

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۸۸ البلاغ فریاد درد کی تالیف سے پہلے آریہ صاحبوں نے سخت گوئی انتہا تک پہنچادی تھی؟ اور اگر کوئی فریقین کی تحریروں کا مقابلہ کرے اور کتابوں کو ایک دوسرے کے مقابل پر کھول کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ اگر چہ کسی قدریختی مدافعت کے طور پر نہایت رنج اٹھانے کے بعد ہم سے بھی ظہور میں آئی جس کا سبب اور جس کے استعمال کی حکمت عملی اور اس کے مفید نتائج ابھی ہم لکھ چکے ہیں مگر تاہم مقابلتا وہ سختی کچھ بھی چیز نہیں تھی اور ہر جگہ مخالفین کے اکابر اور پیشواؤں کا نام تعظیم سے لکھا گیا تھا اور مقصود یہ تھا کہ ہماری اس نرمی اور تہذیب کے بعد ہمارے مخالف اپنی عادات سابقہ کی کچھ اصلاح کریں مگر لیکھرام کی کتابوں نے ثابت کر دیا کہ یہ امید بھی غلط تھی ۔ ہم نہیں چاہتے کہ بے محل اس قصے کو چھیڑیں ۔ صرف ہمیں ان لوگوں کی حالت پر افسوس آتا ہے جنہوں نے سچائی کا خون کر کے یہ الزام ہم پر لگانا چاہا کہ گویا مخالفوں کے مقابل پر ابتدا تمام سختیوں اور تمام بدگوئیوں اور تمام تحقیر اور توہین کے الفاظ کا ہم سے ہوا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو حمایت اسلام کا دم مارتے ہیں۔ جن کا یہ خیال ہے کہ گو یا سخت گوئی ہماری سرشت میں ایک لازم غیر منفک ہے جس نے مہذب مخالفوں کو جوش دلایا۔ اگر اس قابل رحم انجمن کی یہ رائے ہے جس کو ابزرور نے شائع کیا ہے تو اس نے بڑی غلطی کی کہ گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں پادریوں کی شکایت میں میموریل روانہ کیا۔ کیونکہ جبکہ میری ہی تحریک اور جوش دینے سے یہ سب کتابیں لکھی گئی ہیں تو طریق انصاف تو یہ تھا کہ میری شکایت میں میموریل بھیجتے ۔ میں سچے دل سے اس بات کو بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کی نظر میں یہی سچ ہے کہ بدگوئی کی بنیاد ڈالنے والا میں ہی ہوں اور میری ہی تالیفات نے دوسری قوموں کو تو ہین اور تحقیر کا جوش دلایا ہے تو ایسا خیال کرنے والا خواہ ابزرور کا ایڈیٹر ہو یا انجمن حمایت اسلام لاہور کا کوئی ممبر یا کوئی اور اگر وہ ثابت کر دکھاوے کہ یہ تمام سخت گوئیاں جو پادری فنڈل سے شروع ہو کر امھات المومنین تک پہنچیں یا جو اندرمن سے ابتدا ہو کر لیکھرام تک ختم ہوئیں۔ میری ہی وجہ سے برپا ہوئی تھیں تو میں ایسے شخص کو تاوان کے طور پر ہزار روپیہ نقد دینے کو طیار