البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 630

البلاغ — Page 370

روحانی خزائن جلد ۱۳ ٣٧٠ البلاغ فریاد درد ایک کارڈ بھیجا اور اخباروں میں بھی اس کتاب کی نسبت بہت سی شکایتیں میں نے پڑھی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس شخص نے بہت سی بد تہذیبی اور شوخی اور بد زبانی سے اپنی کتاب میں جابجا کام لیا ہے۔ غرض میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں میں اس کتاب سے از حد اشتعال پیدا ہوا ہے اور اس اشتعال کی حالت میں بعض نے گورنمنٹ عالیہ کے حضور میں میموریل بھیجے اور بعض کتاب کے رڈ کی طرف متوجہ ہوئے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اس افترا کا جیسا کہ تدارک چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسے امور میں میموریل بھیجنا تو محض ایک الیہ بل بھیجنا تو محض ایک ایسا امر ہے کہ گویا اپنے شکست خوردہ ہونے کا اقرار کرنا اور اپنے ضعف اور کمزوری کا لوگوں میں مشہور کرنا ۔ نا ہے۔اور نیز یہ امر بھی ہرگز پسند کے لائق نہیں کہ ہر ایک شخص رڈ لکھنے کے لئے طیار ہو جائے اور اس سے ہم یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ ہم نے جواب دینا تھا وہ دے چکے۔ اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا اور بسا اوقات ایک ایسا ملاً گوشہ نشین سادہ لوح رڈ لکھتا ہے کہ نہ اس کو معارف حقائق قرآنی سے پورا حصہ ہوتا ہے اور نہ احادیث کے معانی لطیفہ سے کچھ اطلاع اور نہ درایت صحیحہ اور نہ علم تاریخ نہ عقل سلیم اور نہ اس طرز اور طریق سے کچھ خبر رکھتا ہے جس طرز سے حالت موجودہ زمانہ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لہذا ایسے رڈ کے شائع ہونے سے اور بھی استخفاف ہوتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اکثر ایسے لوگ جو اس شغل مباحثات مذہبیہ میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں علوم دینیہ اور نکات حکمیہ سے بہت ہی کم حصہ رکھتے ہیں اور تالیفات کے وقت نیت میں بھی کچھ ملونی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے مؤلفات میں قبولیت اور برکت کا رنگ نہیں آتا۔ یہ زمانہ ایک ایسا مانہ ہے کہ اس زمانہ میں اگر کوئی ی شخص شخص مناظرا، مناظرات مذهبیہ کے میدان میں قدم رکھے یا مخالفوں کے رڈ میں تالیفات کرنا چاہے تو شرائط مندرجہ ذیل اس میں ضرور ہونی چاہئیں۔ اول۔ علم زبان عربی میں ایسا راسخ ہو کہ اگر مخالف کے ساتھ کسی لفظی بحث کا اتفاق پڑ جائے تو اپنی لغت دانی کی قوت سے اُس کو شرمندہ اور قائل کر سکے۔ اور اگر عربی میں کسی تالیف کا