البلاغ — Page 283
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۳ كتاب البرية روبروئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر بدین مضمون دی گئی کہ ایک نوجوان بعمر اٹھارہ سال عبد الحمید نامی نے ۲۴۶ بیان کیا ہے کہ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے ( ڈاکٹر مارٹن کلارک) قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے غلام احمد کی گرفتاری کے لئے ایک وارنٹ جاری کیا اور نوٹس دیا کہ وہ ان کو وجہ بتلائیں کہ کیوں اس سے حفظ امن کے لئے مچلکہ نہ لیا جائے مگر بعد ازاں معلوم کر کے کہ اس کو اختیار قانونی حاصل نہیں ہے اس نے مثل کو ضلع ہذا میں بھیج دیا کیونکہ غلام احمد کی سکونت اس ضلع میں واقع ہے۔ بادی النظر میں یہ مقدمہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات کی جائے اور پھر شیشن سپرد کیا جائے۔ مگر ڈاکٹر کلارک بوجہ بیماری پہاڑ پر جانا چاہتا تھا اور اس کو ڈ رتھا کہ شاید اس کا سب سے بڑا گواہ ورغلایا جائے ۔ اسی واسطے اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ جہاں تک جلد ممکن ہو عدالتی تحقیقات کی جائے۔ یہ معلوم ہوا کہ بطور تمہیدی کارروائی تحقیقات زیر دفعہ ۰۷ اضابطہ مذکور جوان حالات کی رو سے قائم ہوا اور جو اصل حقیقت پر پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے کی جائے لہذا جد ید نوٹس غلام احمد کے نام جاری کیا گیا تا کہ وہ آن کر وجہ بیان کرے کہ کیوں اس سے ضمانت نہ لی جائے۔ شہادت ڈاکٹر مارٹن کلارک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۹۳ء ۱۸۹۳ء میں اس نے مابین عبد اللہ آتھم عیسائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مباحثہ کرایا تھا جس میں ڈاکٹر کلارک موجود تھا اور دو موقعوں پر خود ڈاکٹر کلارک نے عیسائیوں کی بقیه حاشیه صفحه ۲۸۰ حاشیه در حاشیه وہ مقام دکھلا دیں ۔ ہم محض ثالث کے طور پر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اگر حضرت یسوع در حقیقت ۲۴۶ مصلوب ہو گئے ہیں تو اس صورت میں یہود اُن کو لعنت ابدی اور جہنمی ہونے کا مصداق ٹھہرانے میں بلا شبہ حق پر ہیں اور توریت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ہے جو تین دن کی لعنت کے بارے میں عیسائیوں کی تائید کر سکے ۔ صلیب کے قبول کرنے کے بعد عیسائیوں کو کوئی بھی گریز کی جگہ ☆ دو یسوع کا جہنم میں جانا ان کتابوں سے ثابت ہوتا ہے۔ انجیل متی کی تفسیر خزانة الاسرار تالیف پادری عمادالدین صفحه ۴۹۸ سطر بین سخا خدا کا سارا غضب جو گناہ کے سبب سے ہے اس پر آگیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ غضب وہی چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جہنم کہتے ہیں ۔ پھر اس خزانة الاسرار کی بائیسویں سطر میں مسیح کی نسبت زبور ۸۸-۶ سے یہ پیشگوئی نقل کی ہے۔ تو نے مجھے گڑھے کے اسفل میں ڈالا اندھیرے مکانوں میں گہراؤوں میں ۔ اب ظاہر ہے