البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 630

البلاغ — Page 279

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۷۹ كتاب البرية نقل بیان مرزا غلام احمد قادیانی بلا حلف بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور ۲۴۴ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۰۷ اضابطہ فوجداری مهر عدالت) دستخط حاکم ۲۰ را گست ۹۷ء بیان مرزاغلام احمد قادیانی بلا حلف جب مباحثہ ۹۳ء کا ختم ہوا آخر پر ہم نے حسب درخواست عبداللہ آتھم کے اس کی نسبت پیشگوئی کی تھی ۔ ڈاکٹر کلارک صاحب کی بابت یہ پیشگوئی نہ تھی اور نہ وہ اس پیشگوئی میں شامل تھا۔ فریق سے مراد آتھم ہی ہے ۔ جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے۔ فریق اور شیخ شخص کے ایک ہی معنے ہیں اور اس میں ہم بھی شامل ہیں ۔ کوئی حملہ آتھم کے اوپر نہیں کیا گیا تھا اگر ہوتا تو وہ خود کوئی استغاثہ کرتا یار پورٹ دیتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ پندرہ ماہ - کے عرصہ کے بعد عبداللہ آتھم فوت ہوئے تھے ۔ پندرہ ماہ گذرنے کے بعد عبد اللہ آتھم ۔ لہ آتھم سے ہم نے سنا تھا کہ اپنے دوستوں کے پاس بیان کیا تھا کہ اس پر تین بار حملے ہوئے۔ اس پر بھی ہم نے اس کو متنبہ کیا کہ میں ایسا سنتا ہوں کہ آپ میرے پر الزام لگاتے ہیں کہ میرے پر تین حملے ہوئے ۔ اگر یہ صحیح ہے تو چاہیے کہ آپ قسم کھا ئیں یا عدالت میں نالش کریں یا خانگی طور پر باضابطہ اس کا ثبوت دیں۔ مگر کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔ اس سے پہلے اس نے کبھی بیان نہیں کیا تھا نہ کسی اخبار میں نہ اور طرح پر۔ میں نے کوئی پیشگوئی سانپ کی بابت نہیں کی تھی۔ عبدالحمید کو ایک دفعہ میں نے مسجد میں دیکھا تھا کسی بقيه حاشيه اب خلاصہ کلام یہ کہ مسیح کا مصلوب ہونا تو ریت کے رو سے صرف اس بات کا مانع ۲۴۴ تھا کہ اور تمام صلحا اور راستبازوں کی طرح اس کا رفع روحانی ہو ۔ اور یہی بار بار یہود کا اعتراض بھی تھا۔ پس نصاری کا اس پہلو کو اختیار کر لینا کہ حضرت مسیح در حقیقت مصلوب ہو گئے ہیں اور پھر یہ بات بنانا کہ گویا وہ بعض عیسائیوں کے رو بروئے صلیب سے نجات پا کر تین دن بعد مع جسم آسمان پر چلے گئے تھے یہ نہایت لغو اور بیہودہ عذر ہے ۔ کیونکہ جبکہ انہوں نے توریت کے موافق اس بات کو مان لیا کہ یسوع مصلوب ہو کر در حقیقت مور د لعنت ہو گیا تھا۔