البلاغ — Page 239
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۹ كتاب البرية عبد الحمید کے آنے کے ۸ روز بعد میں ریل پر پر چہ مسیحی دین کے تقسیم کرنے کے واسطے گیا تھا جب ۲۰۵ واپس آیا تو کھوہ کے پاس ایک شخص تھا اور ایک اور فاصلہ پر تھا۔ ایک نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں کہا جاتے ہو میں نے کہا کہ گھر جاتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تمہارے پاس کوئی لڑکا عبدالحمید ہے میں نے ا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ وہ لڑکا پہلے ہندو تھا۔ رلا رام اس کا نام ہے۔ بٹالہ اس ۔ ۔ بٹالہ اس کے گھر میں پہلے بے ایمانی اس نے کی کہ مسلمان ہوا اور اب عیسائی ہونے آیا ہے۔ میں نے کہا کہ جو تاریکی اس کے دل کا میں تھی دور ہو جائے گی اور تم کو تکلیف پھر نہیں دے گا۔ پھر وہ دونوں شخص وہیں ر نص وہیں رہے اور میں اپنے ہسپتال کو چلا گیا۔ سفید پوش آدمی تھے۔ ٹھیک نہیں کہہ سکتا کہ ہندو تھے یا مسلمان تھے۔ داہڑھی منڈی ہوئی تھی۔ پنجابی بولی تھی۔ سرحدی بولی نہ تھی۔ پھر ان آدمیوں کو نہیں دیکھا۔ اس شخص نے اسٹیشن ماسٹر سے بھی ذکر کیا تھا کہ یہ لڑکا ہندوؤں کا ہے۔ مجھے سٹیشن ماسٹر نے کہا تھا۔ میں نے عبدالحمید سے ان دو آدمیوں کی بابت ذکر کیا تھا کہ وہ تمہارے پنڈ کے ہیں یا کیا۔ اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ پریم داس سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم شہادت استغاثہ ہو چکی ہے مستغاث علیہ کی طرف سے وکیل نے پرسوں آنا ہے پرسوں پیش ہووے۔ دستخط حاکم بقيه حاشيه مگر ہم کہتے ہیں کہ قطع نظر اس بات کے کہ قرآن شریف کے رو سے مردہ کا زندہ ہو کر دنیا میں ۲۰۵ آکر آباد ہونا بالکل ممتنع ہے اور آیت فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ اس دوبارہ روح کے آنے سے مانع ہے پھر اگر بطور فرض محال مان بھی لیں کہ حضرت عیسی زندہ ہو کر آئیں گے تو ہمیں کسی حدیث یا اثر صحابی سے نشان بتلانا چاہئے کہ کونسی قبر پھٹے گی جس سے وہ زندہ ہو کر نکل آئیں گے۔ افسوس کہ ہمارے مخالف ایک جھوٹے عقیدہ میں پھنس کر نا حق گلے پڑا ڈھول بجارہے ہیں ۔ ان لوگوں نے ایسے بیہودہ اور لغو عقائد سے دین کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور مخالفوں کو اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔ ایک فرقہ مسلمانوں کا جو نیچر اور قانون قدرت کا عاشق ہو رہا ہے وہ ان ہی لوگوں کی نہایت غیر معقول تقریروں سے مسیح کے دوبارہ آنے الزمر : ۴۳