البلاغ — Page 211
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۱ كتاب البرية شامل مثل کیا گیا۔ سنایا گیا درست تسلیم ہوا۔ گواہ نے بعد بیان کرنے کے عرض کی کہ چونکہ اس نے صاف صاف حالات بیان کر دیئے ہیں اس کو جان کا اندیشہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ اپنی حفاظت میں اس کو رکھنا چاہتے عبد الحميد بقلم خود ہیں۔ چنانچہ گواہ کو اجازت ڈاکٹر صاحب کے پاس رہنے کی دی گئی۔ دستخط حاکم نقل تتمه بیان مشمول مثل اجلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہارورڈ پٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ (۱۷۸) مرجوعه فیصلہ نمبر بسته نمبر مقدمه مهر عدالت کا حام ۱۵ اگست ۹۷ زیر تجویز و 10/8/97 سرکار دولتمدار مستغیث جرم ۰۷ اضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں مستغاث علیہ تتمه بیان عبد الحمید با قرار صالح قادیاں سے جہلم لقمان کے پاس صرف ملنے ملاقات کے واسطے مظہر گیا تھا اور کوئی کام نہ تھا۔ بقيه حاشيه کی صریح پیشگوئی سے انکار کر کے مکذبین میں داخل نہ ہو۔ اس بیان کی تفصیل یہ ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرما کر اس پیشگوئی کی معقولیت کو کھول دیا اور ظاہر فرما دیا کہ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا اسی رنگ اور طریق سے مقدر تھا جیسا کہ ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا گیا تھا۔ کیونکہ صحیفہ ملا کی میں اس بات کا بہ تصریح ذکر تھا کہ وہ مسیح موعود جس کا یہودیوں کو انتظار تھا وہ دنیا میں نہیں آئے گا جب تک کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے۔ اگر ہمارے مخالفین میں سعادت اور حق جوئی کا مادہ ہوتا تو وہ ملا کی نبی کی اس پیشگوئی سے جس پر یہود اور نصاری دونوں کا اتفاق ہے بہت فائدہ اٹھاتے ۔ کیونکہ صحیفہ ملا کی کی ظاہر نص کے لحاظ سے ضرور کہنا پڑتا ہے کہ ایلیا اب تک دنیا میں واپس نہیں آیا ۔ حالانکہ حضرت مسیح کو دنیا میں آئے ہوئے قریباً انیس سو برس کے ہو گیا ۔ پس اگر جیسا کہ ملا کی کے ظاہر الفاظ سے نکلتا ہے جس پر علماء یہود آج تک بڑے زور سے جمے بیٹھے ہیں یہی صحیح ہے کہ ضرور مسیح سے پہلے ایلیا نبی کا بذاتہ ١٩٠٠ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے’و راگست ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے”’ 15/8/97‘ ہونا چاہیے۔(ناشر )