البلاغ — Page 95
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۵ كتاب البرية ایسا ہی عبرانی میں بجائے ادون کے جو خداوند کے معنے رکھتا ہے اردو نیم آ جاتا ہے۔ سودراصل یہ بحثیں محاورات لغت کے متعلق ہیں۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ہم آ جاتا ہے کہ ہم نے یہ کیا اور ہم یہ کریں گے۔ اور کوئی عقلمند نہیں سمجھتا کہ اس جگہ ہم سے مراد کثرت خداؤں کی ہے۔ مگر پادری صاحبوں کے حالات پر بہت افسوس ہے کہ وہ قابل شرم طریقوں پر تاویلیں کر کے ایک انسان کو زبردستی خدا بنانا چاہتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ بت پرستی کے زمانہ کے خیالات انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ مشرکا نہ تعلیم کو بناویں۔ خیال کرنا چاہیئے کہ کیسے دور از عقل و فہم تکلفات انہوں نے کئے ہیں۔ یہاں تک کہ توریت پیدائش کے باب میں جو یہ عبارت ہے کہ خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی شکل پر بنائیں گئے۔ یہاں سے عیسائی لوگ یہ بات نکالتے ہیں کہ ہم کے لفظ سے تثلیث کی طرف اشارہ ہے مگر یادر ہے کہ عبرانی میں اس جگہ لفظ نعسہ ہے جس کے معنے ہیں نصنع ۔ یہ لفظ تھوڑے سے تغیر سے اسی عربی لفظ یعنی نصنع سے ملتا ہے اور عربی اور عبرانی کا یہ محاورہ ہے کہ اپنے تئیں یا کسی دوسرے کو عظمت دینے کے لئے تم یا ہم کا لفظ بولا کرتے ہیں مگر ان لوگوں نے مخلوق پرستی کے جوش سے محاورہ کی طرف کچھ بھی خیال نہیں کیا اور صرف یہ لفظ پا کر کہ ہم بنائیں گے تثلیث کو سمجھ لیا۔ بہت ہی افسوس کی جگہ ہے کہ مخلوق پرستی سے پیار کر کے ان بے چاروں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ لیکن صرف تین کی حد بندی انہوں نے اپنی طرف سے کرلی ہے ورنہ جمع کے صیغے میں تو تین سے زیادہ صد ہا پر اطلاق ہو سکتا ہے یہ ضرور نہیں کہ جمع کے صیغہ سے صرف تثلیث ہی نکلتی ہے۔ ہمارا عیسائیوں پر ایک یہ اعتراض تھا کہ جس فدیہ کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے۔ کیونکہ الہی قانون پر غور کر کے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ ادنی اعلیٰ پر قربان کیا گیا ہے۔ مثلاً انسان اشرف المخلوقات اور با تفاق اے عظمندوں م حیوانات سے اعلیٰ ہے۔ سو اس کی صحت اور بقا اور پائداری اور نیز اس کے کے تمام حیوانات سے ا